اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موسمیاتی بحران

محکمہ موسمیات کے مطابق فروری میں گلگت بلتستان میں درجہ حرارت معمول سے تین سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا‘ جو کسی بھی خطے کیلئے غیرمعمولی صورتحال ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کا یہ رجحان مارچ میں بھی برقرار رہا جس کے پیشِ نظر محکمہ موسمیات نے گلگت‘ غذر‘ ہنزہ اور استور میں گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ اور ممکنہ گلیشیائی سیلاب (گلوف) کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے نہ صرف بارشوں بلکہ برفباری کے روایتی پیٹرن کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ اب برف زیادہ تر سردیوں کے اختتام پر گرتی ہے جس سے برف کی وہ موٹی تہہ نہیں بن پاتی جو گرمیوں میں پانی کے بہاؤ کو متوازن رکھتی ہے۔ نتیجتاً یہ کمزور برف گرمی شروع ہوتے ہی تیزی سے پگھلتی ہے اور فلیش فلڈز کا باعث بنتی ہے۔

گلیشیائی سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جیسے کہ پانی کے بہاؤ کی نگرانی‘ ریسکیو خدمات اور مقامی کمیونٹی کی تربیت۔ ساتھ ہی طویل مدتی حکمت عملی کے تحت پانی کے ذخائر کا مناسب انتظام‘ گلیشیرز کے پگھلاؤ کی نگرانی کے مضبوط نظام اور موسمیاتی تبدیلی کے تدارک کے اقدامات کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ موسمیاتی خطرات ایک مستقل خطرہ بن چکے ہیں اسلئے حکومت کو اس ضمن میں دیرپا حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں