اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

برآمدات میں سست روی

جی ایس پی پلس سہولت کے باوجود یورپی یونین کو ملکی برآمدات کا جمود کا شکار ہونا باعثِ تشویش ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران یورپی یونین کو برآمدات صرف چھ ارب 12 کروڑ ڈالر تک محدود رہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں محض 58کروڑزیادہ ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف برآمدی شعبے بلکہ مجموعی معیشت کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مغربی یورپ‘ جو اُس خطے میں پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے‘ وہاں برآمدات میں 3.22 فیصد جبکہ شمالی یورپ میں 2.75 فیصد کمی ہوئی۔ برآمدات میں کمی کی بڑی وجوہات میں مصنوعات کا محدود دائرہ‘ ٹیکسٹائل پر حد سے زیادہ انحصار‘ پیداواری لاگت میں اضافہ اور معیار و برانڈنگ کے مسائل شامل ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق یورپی یونین کا بھارت کیساتھ آزاد تجارتی معاہدہ مستقبل قریب میں پاکستان کیلئے مسابقت کو مزید سخت بنا دے گا۔ لہٰذا حکومت کو یورپی یونین کو برآمدات کے فروغ کیلئے ازسرِ نو حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے‘ جس میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے کیلئے معیار‘ جدت اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینا سرفہرست ہو۔ مارکیٹنگ کے جدید تقاضوں کو اپنانا‘ برانڈنگ کا فروغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے رسائی بڑھانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان اقدامات کے بغیر جی ایس پی پلس جیسی اہم سہولت کے باوجود ہم عالمی تجارتی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں