عالمی امن و استحکام کا تقاضا
پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے لیے بظاہر درست سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا حالیہ دورہ اس سلسلے کی ایک کڑی تھا اور اب نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار کا دورۂ چین بھی بظاہر اسی عمل کا حصہ ہے۔ اس اہم سفارتی کوشش کے حوالے سے چین کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے اور ایسا ہونا خوش آئند۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس جنگ کے اثرات عالمگیر ہیں اور کسی نہ کسی طرح ہر کوئی اس سے متاثر ہو رہا ہے۔ دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ کشیدگی عالمی امن اور معیشت کیلئے تباہ کن ہے۔ یہی دلیل جنگ کے خاتمے کیلئے مختلف سطحوں پر جاری کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔ امریکہ‘ جہاں لاکھوں افراد صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور یورپی اتحادی امریکہ سے دور کھڑے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ اس بے مقصد جارحیت کا معاشی بھگتان ہی ہے جس کی سکت کسی معیشت میں نہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ جنگ بندی اور مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں مگر ان کی کہہ مکرنیوں اور قول وفعل کے تضاد کی وجہ سے ان پر اعتماد کرنا خاصا مشکل ہو چکا ہے۔

وہ ایک طرف پس پردہ ایران سے بات چیت کا تاثر دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب سپیشل فورسز کے ذریعے حملے کرنے اور بظاہر ناممکن العمل خیالات ارزاں کرتے رہتے ہیں۔ اب ایسا تو ممکن نہیں کہ جنگ بندی بھی ہو اور مزید جنگی کارروائیاں بھی۔ صدر ٹرمپ کے اس رویے کی وجہ سے اس جنگ کو سمیٹنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور دیگر اہم مسلم ممالک کی جانب سے جاری کوششیں اور اس سلسلے میں ایرانی قیادت کے ساتھ رابطوں کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور قوی امید ہے کہ برادر مسلم ممالک کے ذریعے ایران کو جنگ بندی کیلئے تیار کیا جا سکتا ہے‘ مگر صدر ٹرمپ کی دھمکیاں سفارتی کوششوں کو جو نقصان پہنچا رہی ہیں اس کے ازالے کی کوئی صورت بھی تلاش کر لینی چاہیے۔ اس دوران جب خود ٹرمپ ایران کیساتھ بڑی پیشرفت کے دعوے کر رہے ہیں‘ جزیرہ خارگ اور پانی صاف کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کی باتیں غیر ضروری ہیں اور اس سے کوئی مقصد پورا ہوتا نظر نہیں آتا‘ سوائے جنگ بندی کے امکان کو مزید مسدود کرنے کے۔
اگر امریکہ کا مقصد جنگ بندی ہے‘ امریکہ کے داخلی حالات جس کا تقاضا کر رہے ہیں‘ تو صدر ٹرمپ کو اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوں گے ۔ وہ جس قسم کے عزائم ظاہر کر رہے ہیں ایسے میں جنگ بندی کیلئے کی جانے والی کوششوں کو مزید دشوار اور ناقابلِ عمل بنانے کے سوا کوئی مقصد پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان حالات میں یہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ خود اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے‘ جنگ بندی کی اہمیت کا ادراک کرے اور اس کیلئے وہی مناسب راستہ اختیار کیا جائے جو امن کی بحالی کا سبب بن سکتا ہے نہ کہ وہ جو جلتی پر مزید تیل ڈالے۔ اس لیے جنگ بندی کی باتوں کیساتھ جنگ بھڑکانے والے خیالات کو ہوا دینے والے بیانات داغنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ایران امریکہ جنگ کا خاتمہ مشرق وسطیٰ کیلئے ہی نہیں عالمی امن‘ معیشت اور توانائی کی سکیورٹی کیلئے بھی ضروری ہے۔ اس مہینہ بھر سے جاری کشیدگی نے دنیا کی معیشت پر جو اثرات مرتب کیے ہیں اب ان کا مزید بوجھ برداشت کرنے کی کسی میں سکت نہیں۔ توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور نوبت راشننگ تک آ گئی ہے اور سمارٹ لاک ڈاؤن زیر غور ہیں‘ لوگوں کے روزگار اور کاروبار داؤ پر لگ چکے ہیں‘ معیشت کیلئے اس ابتر صورتحال کو مزید طول دینا سراسر معاشی خودکشی کے مترادف ہے؛ چنانچہ مسلم ممالک‘ چین اور وہ سبھی ممالک جو امریکی اسرائیلی ناجائز جارحیت کے خلاف ہیں اور اس کے اثرات کا نہ چاہتے ہوئے سامنا کرنے پر مجبور ہیں‘ انہیں عالمی امن اور استحکام کی خاطر آگے آنا ہو گا۔