اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خونیں ڈور

ایک خبر کے مطابق اگلے روز شیخوپورہ میں ایک نوجوان گلے پر خطرناک ڈور پھرنے سے جاں بحق ہو گیا۔ پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی اور اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ کے نفاذ کے باوجود آئے روز مختلف شہروں سے پتنگ بازی کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ خطرناک ڈور کے استعمال کی وجہ سے پتنگ بازی ایک خونیں کھیل بن چکا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں فروری میں منائی گئی بسنت کے دوران 17افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ کہنے کی حد تک صوبے میں اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ نافذ ہے جس کے تحت پتنگ بازی پر جرمانہ اور قید کی سزا دی جا سکتی ہے لیکن مؤثر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے من چلے اس قانون کو خاطر میں نہیں لاتے۔

اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف قانون کی موجودگی کافی نہیں‘ اس کا سخت نفاذ بھی ضروری ہے۔ جب تک انسدادِ پتنگ بازی قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں ‘ جن میں پتنگ ساز‘ پتنگ فروش اور پتنگ بازی کرنیوالے سبھی شامل ہیں‘ کو سخت سزائیں نہیں دی جاتیں یہ خونیں کھیل رکتا نظر نہیں آتا۔ متعلقہ حکام نگرانی کا نظام مؤثر بنانے کیساتھ ساتھ اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ پر ہر صورت عملدرآمد اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ ورنہ یہ خونیں کھیل پھر سے ہر شہر میں شروع ہو جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں