اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بروقت اقدامات کی ضرورت

رواں ہفتے سے ملک میں گندم کی کٹائی کا سیزن شروع ہو رہا ہے۔ گندم کی کٹائی‘ اس کی منڈی تک ترسیل اور بعد ازاں دھان کی فصل کی کاشت کیلئے زرعی نظام مکمل طور پر ڈیزل پر انحصار کرتا ہے لیکن ان دنوں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیریقینی صورتحال کے پیشِ نظر کاشتکار شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ گندم کی کٹائی کے سیزن میں یا نئی فصل کی کاشت کے موقع پر ڈیزل کی سپلائی میں کسی بھی قسم کا تعطل یا قیمتوں میں اچانک اضافہ نہ صرف زرعی اخراجات بڑھانے کا باعث بن سکتا بلکہ مجموعی غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو زرعی شعبے کو اس ممکنہ بحران سے بچانے کیلئے بروقت اقدامات کرنے چاہئیں۔

خوش آئند امر یہ ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کی بنا پر پاکستان پر آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر کوئی ممانعت نہیں ہے اور جنگ کے باوجود اس آبی گزرگاہ سے پاکستانی پرچم بردار جہاز تیل کی ترسیل میں مصروف ہیں۔ مزید برآں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بھی کویت پاکستان کو ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی کیلئے تیار ہے جبکہ سعودی عرب اور عمان بھی اس نوعیت کے تعاون کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ غذائی بحران سے بچنے اور ملک میں زرعی سرگرمیوں کو معمول کے مطابق بحال رکھنے کیلئے لیت و لعل کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ڈیزل کے وافر ذخائر کی بروقت دستیابی یقینی بنائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں