خوراک کا ضیاع
اقوام متحدہ فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ایک ارب 30کروڑ ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے‘ جو عالمی سطح پر پیدا شدہ خوراک کا تقریباً ایک تہائی بنتا ہے۔ پاکستان کی بات کریں تو وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ ملکی پیداوار کی تقریباً 26فیصد خوراک ضائع ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا شمار فی کس سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والے پہلے پانچ ممالک میں ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے فوڈ ویسٹ انڈیکس 2024ء کے مطابق پاکستان میں ہر فرد سالانہ 122کلو گرام تک کھانا ضائع کرتا ہے۔ عوام کی جانب سے اکثر رنگ‘ شکل اور سائز کے معیار پر پورا نہ اترنے والی تازہ خوراک کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔

اگرچہ اجناس اور پھلوں‘ سبزیوں کو محفوظ کرنے کی سہولتوں کی کمی بھی غذائی ضیاع کا بڑا سبب ہے؛ تاہم اس میں زیادہ کردار انفرادی نوعیت کا ہے۔ اس حوالے سے مجموعی قومی رویے کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کی ضروریات پورا کرنے کیلئے غذائی اجناس درآمد کی جا رہی ہیں‘ اور ایک نمایاں طبقہ دو وقت کی روٹی سے بھی عاجز ہے‘ ہمیں بہرصورت اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔ اس حوالے سے عوام کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ صرف اتنا ہی کھانا بنائیں جتنا آسانی سے کھا سکتے ہیں۔