اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی میں ہوشربا اضافہ

وفاقی ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں سالانہ مہنگائی کی شرح 19مہینوں کی بلند ترین سطح 7.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے‘ جبکہ گزشتہ سال مارچ میں یہ شرح محض 0.7فیصد تھی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 35فیصد‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 24فیصد‘ پٹرول کی قیمت میں 26اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 30فیصد اور کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں تقریباً نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ روز افزوں مہنگائی کی وجہ سے غریب آدمی شدید معاشی مسائل کی گرداب میں پھنس چکا ہے۔یہ صورتحال سماجی بے چینی میں روز بروز اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ حکومت کے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوؤں کے باوجود اس کا ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنا ان دعوؤں کی قلعی کھول رہا ہے۔

مہنگائی کے تدارک کیلئے طویل مدتی اصلاحات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن فوری طور پر مہنگائی کو قابو میں لانے کیلئے حکومت کو منافع خوروں کے خلاف بلاتاخیر سخت اقدامات کی ضرورت ہے‘ جو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر منافع خوری میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مہنگائی کے تدارک کیلئے مارکیٹ میکانزم کو ریگولیٹ کرنے کی جامع اور مؤثر حکمت عملی تشکیل دے تاکہ سرکاری نرخوں کی پابندی یقینی بنا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ مہنگائی سے نمٹنے کا دوسرا طریقہ عوام کی قوتِ خرید بڑھانا ہے‘ حکومت کو اس طرف بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں