اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پاک افغان مذاکرات اور علاقائی استحکام

پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ کشیدگی کے بعد ایک بار پھر چین کی ثالثی میں‘ چین کے شہر ارمچی میں پاک افغان ورکنگ لیول مذاکرات کا آغاز خطے کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران امریکہ تصادم کی وجہ سے خطے میں کشیدگی اور تناؤ کے اثرات شدت سے محسوس کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب کابل کے حوالے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ دہشتگرد عناصر کی سرپرستی پاکستان سمیت خطے کے ممالک میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا سبب ہے۔پاکستان نے ہمیشہ ہمسایہ ممالک کیساتھ برابری اور امن کی بنیاد پر تعلقات کو ترجیح دی ہے لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ علاقائی تناؤ کا خاتمہ کسی صورت بھی ریاست کی سالمیت‘ سرحدوں کی پامالی اور دہشتگردی کی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ماضی میں بھی افغانستان کی جانب سے سرحدی مسائل کا سامنا رہا مگر طالبان رجیم کے برسر اقتدار آنے کے بعد افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مشکل نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔

اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر کے معتبر ادارے اس امر کی تصدیق کر چکے ہیں کہ افغان عبوری حکومت دہشتگرد گروہوں کو نہ صرف پناہ فراہم کر رہی ہے بلکہ ان کی مالی و تکنیکی معاونت بھی کی جا رہی ہے۔ جب کوئی ریاست اپنی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کیساتھ ساتھ ہمسائیگی کے بنیادی اصولوں سے بھی انحراف کرتی ہے۔ 2020ء کے دوحہ معاہدے میں طالبان رجیم نے اس بات کا مکمل یقین دلایا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی مگر یہ تمام یقین دہانیاں عملی طور پر اپنا وجود ثابت کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ افغانستان سے پے درپے خطرات کے بعد پاکستان نے اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دہشتگردی کے عفریت کو کچلنے کیلئے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا جس کے نتائج نے دنیا کو باور کرا دیا ہے کہ افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں دہشتگردی کا اصل منبع ہیں۔

اس کامیاب آپریشن کے نتیجے میں پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی کی کارروائیوں میں 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تک دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور ان کی کمین گاہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا‘ داخلی امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ ہر باشعور شخص خطے کو امن کا گہوارا بنانے کا خواہشمند ہے مگریہ یکطرفہ کوششوں سے نہیں ہو سکتا۔ چین کی جانب سے ثالثی اس بات کی علامت ہے کہ بیجنگ بھی خطے میں دہشتگردی اور عدم استحکام کو اپنی معاشی اور تزویراتی پالیسیوں کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف پہلے دن سے واضح ہے کہ ہمارے کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں‘ ایک مستحکم افغانستان‘ سرحدوں پر امن اور دہشتگردی سے پاک ماحول پاکستان کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اب گیند افغان عبوری حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیتے ہوئے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں تعاون کرتی ہے یا نہیں۔ مذاکرات کا دوبارہ شروع ہونا ایک مثبت قدم ہے مگر ریاستِ پاکستان کسی مبہم پالیسی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اگر کابل حکومت اب بھی استنبول مذاکرات کی طرح محض وقت گزاری کا راستہ اختیار کرتی ہے تو یہ مذاکرات بھی بے نتیجہ ثابت ہوں گے۔ پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ کابل حکومت ان دہشت گرد تنظیموں کی سرکوبی کرے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے زہرِ قاتل ہیں۔ پاکستان کی پالیسی دو ٹوک ہے: امن کیلئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں لیکن قومی سلامتی اور شہریوں کے جان ومال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ افغان حکام اب میدانِ عمل میں اپنی سنجیدگی ثابت کریں تاکہ یہ خطہ حقیقی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں