دہشت گردی کے خلاف پختہ عزم
حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت اب تک مجموعی طور پر 796 دہشت گرد ہلاک اور 1043زخمی کیے جا چکے جبکہ افغانستان کے اندر اُن کے 81 ٹھکانوں کو فضائی کارروائی کے ذریعے تباہ کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کیلئے 286 چوکیاں‘ 249ٹینک‘ بکتر بند گاڑیاں‘ توپیں اور ڈرون بھی تباہ کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کیلئے فیصلہ کن اقدامات کر رہی ہے۔ شمالی وزیرستان کے غلام خان سیکٹر میں 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب سرحد پار سے دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملے کو ناکام بنانا بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس میں 37 خوارج ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم عناصر نہ صرف پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ افغانستان میں آپریشن کیساتھ ساتھ پاکستان نے حالیہ دنوں اُرمچی میں چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرکے واضح کیا ہے کہ وہ پائیدار امن کیلئے پوری طرح سے سنجیدہ ہے۔ اب یہ ذمہ داری افغان عبوری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کریں‘ دہشت گردی کے خاتمے میں عملی تعاون کریں۔