اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کاوشِ امن، اسلام آباد اکارڈ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران اور امریکہ کے مابین جاری جنگ کو ختم کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے پیش کیا گیا ’اسلام آباد اکارڈ‘ اس وقت عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے کسی امن معاہدے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی تاہم اتنا ضرور کہا گیا ہے کہ امن عمل جاری ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ جنگ بندی کا ایک ایسا جامع فریم ورک ہے جو نہ صرف دو ممالک بلکہ پوری دنیا کو ایک بڑے عالمی بحران سے بچانے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ دو مراحل پر مشتمل اس امن کاوش کا مقصد مسئلے کا پائیدار حل نکالنا ہے۔ اس منصوبے کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت واحد سفارتی رابطہ چینل کے طور پر امریکی نائب صدر اور ایرانی وزیر خارجہ کیساتھ مسلسل رابطے میں ہے‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے بھرپور کوششیں پس پردہ جاری ہیں اور متحارب ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے تمام سفارتی چینل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مجوزہ امن معاہدے کا سب سے اہم نکتہ 45روزہ جنگ بندی کا نفاذ ہے‘ جس کا مقصد فریقین کو اشتعال انگیزی سے روک کر بات چیت کی طرف لانا ہے۔

اس کیساتھ ساتھ عالمی تیل کی تجارت کی شہ رگ سمجھے جانیوالے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ توانائی کی عالمی منڈیوں میں پھیلا ہوا اضطراب اور دنیا کے معاشی مستقبل پر چھائے بے یقینی کے بادل ختم ہو سکیں۔ تاہم وقت کی قلت اس پورے عمل کیلئے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو منگل تک کی ڈیڈ لائن نے صورتحال کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس ڈیڈ لائن کے ختم ہونے کے بعد ایران کی اہم انرجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے جس کے بعد ایسا ردِعمل سامنے آ سکتا ہے کہ جنگ کے شعلے کسی قابو میں نہیں رہیں گے۔ اگرچہ عالمی امور کے ماہرین دونوں ممالک میں فوری معاہدے کے امکانات کو کم دیکھ رہے ہیں مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کا واحد ذریعہ مسلسل کوششیں اور مکالمہ ہی ہے۔ جنگ کا خاتمہ محض ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ پوری دنیا کی بقا کا تقاضا بن چکا ہے۔ حملوں میں مزید شدت کی قیمت انسانیت کو اس انداز میں چکانا پڑے گی کہ جس کا مداوا کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دنیا میں طاقت کا توازن بگڑا ہے‘ اس کا خمیازہ معصوم شہریوں اور کمزور معیشتوں کو بھگتنا پڑا ہے۔ 28 فروری سے جاری اس تنازع کے عالمی معیشت پر اثرات انتہائی ہولناک ہو چکے ہیں۔

عالمی جی ڈی پی کو اب تک اربوں ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے اور سپلائی چین متاثر ہونے سے اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت 80 کروڑ سے زائد افراد شدید بھوک کا شکار ہیں اور اگر یہ جنگ مزید وسیع ہوتی ہے تو افراطِ زر اور غذائی قلت کی وجہ سے مزید کروڑوں انسان خطِ غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ توانائی کے بحران نے پہلے ہی ترقی پذیر ممالک کی کمر توڑ دی ہے اور امن کاوشوں کی ناکامی کا مطلب عالمی سطح پر ایک ایسی معاشی کساد بازاری ہوگا جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ جنگ بندی‘ قیام امن اور علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کی کوششیں اگرچہ نیک نیتی اور خلوص پر مبنی ہیں مگر ان کی کامیابی کا انحصار واشنگٹن اور تہران کی لچک پر ہے۔ اگر فوری طور پہ کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو دنیا ایک ایسے اندھے کنویں میں گر جائے گی جہاں سے واپسی کا راستہ شدید تباہی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری امن کی کوششوں کو تقویت دے تاکہ انسانیت کو اُس عظیم المیے سے بچایا جا سکے جو صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر ملک کی معیشت اور ہر گھر کی دہلیز تک اس کے اثرات محسوس کیے جائیں گے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں