ایکسپائر شناختی کارڈ اور سکیورٹی رسک
نادرا حکام کی جانب سے یہ انکشاف کہ ملک میں 81لاکھ سے زائد سمیں زائد المیعاد شناختی کارڈوں پر فعال ہیں‘ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ڈیجیٹل شناختی اور مواصلاتی نظام میں خطرناک خلا موجود ہے۔ زائد المیعاد شناختی کارڈوں پر چلنے والی یہ سمیں جرائم پیشہ عناصر کیلئے ایک محفوظ ڈھال ثابت ہوتی ہیں۔ ایسے نمبر دہشت گردی‘ مالیاتی فراڈ‘ بھتہ خوری‘ سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں‘ جہاں اصل صارف کی شناخت تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ فوت شدگان کے نام پر جاری سمیں تو کہیں زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔

لہٰذا زائد المیعاد شناختی کارڈ پر چلنے والی تمام سموں کو فوری طور پر بلاک کیا جانا چاہیے۔ اس کیساتھ حکومت کو ایک واضح‘ مستقل اور سخت پالیسی بھی وضع کرنی چاہیے جس کے تحت شناختی کارڈ کی تجدید نہ کرانے کی صورت میں ایک مقررہ مدت کے بعد نہ صرف موبائل سم بلکہ دیگر شہری سروسز بھی عارضی طور پر معطل کر دی جائیں تاکہ شہریوں کو ذمہ دار بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے نادرا‘ پی ٹی اے اور پبلک سیکٹر کے درمیان مکمل ڈیٹا انٹیگریشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہوتے ہی متعلقہ خدمات خودکار طور پر معطل ہو جائیں۔ ساتھ ہی تجدید کے عمل کو مزید آسان‘ سستا اور ڈیجیٹل بنایا جائے تاکہ کسی کو تاخیر کا جواز نہ مل سکے۔