اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

غذائی درآمدات کا بوجھ

ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں ملک کی غذائی درآمدات سات ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں‘ جو گزشتہ سال سے 15 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعداد وشمار پاکستان جیسے ملک کیلئے لمحہ فکریہ ہیں جس کی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر استوار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ دالوں کی درآمدات میں 24 فیصد کمی کے باوجود مجموعی غذائی درآمدات میں تقریباً 94 کروڑ ڈالر کا بڑا اضافہ ہوا۔ سب سے بڑا بوجھ خوردنی تیل کی صورت میں نظر آتا ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کے خوردنی تیل کی درآمد ایک دائمی خطرہ بن چکی ہے‘ جس کا مستقل حل ناگزیر ہے۔

پاکستان جیسے زرخیز خطے میں تیل دار اجناس کی مقامی کاشت پر توجہ نہ دینا ایک سنگین پالیسی خلا ہے‘ جس کی قیمت مہنگی درآمدات کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ موجودہ حالات متقاضی ہیں کہ زرعی پالیسی کو منظم کرتے ہوئے روایتی فصلوں تک محدود رہنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور بہتر بیجوں کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں کم از کم اس قدر اضافہ کیا جائے کہ مقامی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ برآمدی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات جیسے چاول‘ پھل وغیرہ کی عالمی معیار کے مطابق پروسیسنگ اور نئی منڈیوں تک رسائی سے نہ صرف تجارتی خسارہ کم کیا جا سکتا ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں