اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

عازمین حج اور روڈ ٹو مکہ

اتوار کے روز پاکستان سے حج فلائٹس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا اور اسلام آباد سے پہلی حج پرواز 270 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوئی۔ چند سال پیشتر اس سفر میں ایئر پورٹس پر امیگریشن اور کسٹمز کی طویل قطاریں عازمین کیلئے باعثِ مشقت ہوا کرتی تھیں‘ تاہم سعودی حکومت کے تعاون سے شروع ہونے والے ’روڈ ٹو مکہ‘ منصوبے نے اس سفر کو اب آسان بنا دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جانے والے عازمین کی امیگریشن اور کسٹمز کی تمام کارروائیاں نامزد ایئرپورٹس پر ہی مکمل کر لی جاتی ہیں‘ جس کے بعد سعودی عرب پہنچنے پر طویل انتظار اور دوبارہ امیگریشن کے عمل سے نہیں گزرنا پڑتا۔ اب تک عالمی سطح پر دس ممالک کو اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان میں اس منصوبے کا آغاز اگرچہ 2019ء میں ہوا تھا مگر کورونا کی عالمی وبا کے سبب یہ سلسلہ دو سال تک معطل رہا‘ 2022ء میں اسے دوبارہ بحال کیا گیا اور ابتدائی طور پر یہ اسلام آباد تک محدود تھا۔ دوسرے مرحلے میں اسے کراچی تک وسیع کیا گیا اور رواں سال لاہور کو بھی اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ امسال روڈ ٹو مکہ منصوبے کی گنجائش میں تقریباً دگنا اضافہ کیا گیا ہے اور تقریباً 95 ہزار 800 عازمین (سرکاری حصے کا 80فیصد) اس سے استفادہ کریں گے۔ رواں سال ملک کے آٹھ بڑے شہروں سے حج پروازیں روانہ ہوں گی‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ سالوں میں اس کا دائرہ کار دیگر شہروں تک بھی بڑھایا جائے تاکہ پاکستان بھر کے عازمین یکساں طور پر اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں