اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مذاکرات اور توقعات

امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے دوسرے دور کی پیش رفت نظر آ رہی ہے۔ اس مقصد سے امریکی وفد آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ ایرانی نمائندگان کی آمد بھی آج ہی متوقع ہے۔ دونوں ملکوں کی جنگ بندی کا طے شدہ وقفہ بدھ کے روز مکمل ہو رہا ہے‘ اس سے قبل پائیدار امن کے قیام کی جانب پیش رفت بے حد اہم ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پاکستان کی جانب سے بھرپور سفارتی کوششوں کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو ایران اور امریکہ آج پہلے سے کہیں زیادہ قریب اور ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بہتر رابطے میں ہیں۔ اس امن عمل کی شروعات کے ساتھ دونوں ملکوں میں بالواسطہ پیغام رسانی ہوتی رہی تاہم گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی ایرانیوں کے ساتھ براہ راست گفتگو کی خبریں بھی آ رہی تھیں۔ اس قسم کی پیش رفت مذاکراتی عمل میں فاصلے سمیٹنے کیلئے اہم ہوتی ہے۔ اس موقع پر یہ کہنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ فریقین زبانی جنگ بندی کا نفاذ بھی یقینی بنائیں تاکہ ایک دوسرے کا اعتماد حاصل کرنا آسان ہو سکے۔ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کی کامیابی صرف ان دو ملکوں کی ضرورت نہیں پوری دنیا کی معیشت کیلئے اس کی خاص اہمیت ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دنیا بھر کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ خام تیل اور ایل این جی کے علاوہ توانائی کے دیگر اہم وسائل اور صنعتی مواد کی سپلائی بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہی ہے۔ اٹلانٹک کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ سے پہلے جیٹ فیول کا تقریباً 20 فیصد‘ ڈیزل کا 10 فیصد‘ امونیا کی طلب کا 23 فیصد اور ہیلیم کی پیداوار کا 33 فیصد خلیج فارس کے راستے دنیا کو پہنچ رہا تھا جبکہ عالمی سطح پر بحری جہازوں کے ذریعے فراہم کی جانے والی سلفر کا نصف حصہ اور ایلومینیم کا نو فیصد خلیج فارس سے گزر کر آتا تھا۔ اس خلیج میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر خوراک کی قلت کے مسائل سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اگر جنگ جولائی تک جاری رہی اور تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی تو تقریباً ساڑھے چار کروڑ مزید افراد خوراک کی شدید کمی کا شکار ہو جائیں گے۔

ان اندیشوں سے دنیا کو بچانے کا یقینی طریقہ یہی ہے کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے تک پہنچیں‘ خلیج فارس میں جنگ کا مکمل خاتمہ ہو اور بحری گزرگاہیں معمول کے مطابق کھل سکیں؛ چنانچہ مذاکرات کے دوسرے دور میں مندوبین کی ذمہ داریاں اور ان سے توقعات پہلے سے زیادہ ہوں گی۔ دنیا بھر کی نظریں پہلے بھی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر تھیں مگر حالیہ دور کی اہمیت اور حساسیت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ مذاکرات جنگ بندی کی مدت کے اختتام کے قریب ہو رہے ہیں‘ اور حالیہ دنوں ایک بار پھر دونوں فریق جنگی دھمکیوں پر اُتر آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ ابھی کل ہی کہہ رہے تھے کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے ساتھ وہ کیا جائے گا جو کوئی امریکی صدر نہ کر سکا۔ اُدھر ایران کے پاسداران بھی بدستور رجز خوانی کر تے سنائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باب المندب کی بندش کی دھمکی دینے لگے ہیں۔ یہ گزرگاہ بحیرہ احمر کی طرف بحری نقل و حرکت کا دروازہ ہے۔

اس پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کی جانب سے ایران امریکہ مذاکرات کوکامیاب بنانے اور خطے میں امن واستحکام کو فروغ دینے کیلئے جو سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں‘ نہایت مستحسن ہیں۔ قوی امکان ہے کہ ایران اور امریکہ مذاکرات کے اس دور میں کسی نتیجے پر ضرور پہنچ جائیں گے‘ اور جو 11 اپریل کے مذاکرات میں حاصل نہ ہو سکا وہ اس دور میں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ نیک تمنائیں اپنی جگہ مگر ایران اور امریکہ کے مذاکرات تک ہر لمحہ تجسس بھرا ہو گا۔ امیدوں اور آرزوؤں سے لبریز۔ یہ مذاکرات حسبِ توقع کامیابی سے ہم کنار ہوں‘ خلیجی خطے میں امن قائم ہو تو دنیا سکھ کا سانس لے اور عالمی اقتصاد کو نمو کا بھرپور موقع حاصل ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں