موسمیاتی بحران اور پیشگی وارننگ سسٹم
وزیراعظم کی زیر صدارت مون سون کی پیشگی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس میں گلگت بلتستان میں گلوف سے بچاؤ کیلئے نصب پیشگی وارننگ سسٹم کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ موسمیاتی ماہرین کی جانب سے رواں برس معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے باعث گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ برس بھی گلیشیر پھٹنے‘ لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات اور سیلابی ریلوں نے ملک کے بالائی علاقوں میں کافی تباہی مچائی تھی۔ اس پس منظر میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آخر ایک سال گزرنے کے باوجود پیشگی وارننگ سسٹم مکمل طور پر فعال کیوں نہیں ہو سکا؟موسمیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔

خاص طور پر گلگت بلتستان اور دیگر پہاڑی علاقوں میں جہاں فلیش فلڈنگ اچانک اور شدید شکل اختیار کر سکتی ہے‘ بروقت وارننگ اور محفوظ مقامات کی جانب منتقلی ہی نقصانات کو کم کرنے کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔ ایک مؤثر‘ مربوط اور ڈیجیٹل طور پر فعال پیشگی وارننگ نظام ہی انسانی جانوں کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ سیلاب کے خدشے سے دوچار علاقوں میں پیشگی وارننگ سسٹم کی فوری فعالیت کو یقینی بنائے‘ علاوہ ازیں اس کی مستقل نگرانی اور اَپ گریڈیشن کا نظام بھی وضع کرے۔