مشرقِ وسطیٰ کا سنگین ہوتا بحران
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری کارروائیوں کو تین گنا بڑھانے اور اس اہم بحری گزرگاہ کی ناکہ مزید سخت کرنے کے اعلان نے عالمی توانائی بحران کو مزید شدت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو نہ صرف خطے میں اپنی موجودگی بڑھانے بلکہ مشکوک سرگرمیوں کے خلاف فوری سخت اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اگرچہ ماہرین امریکہ کی ناکہ بندی کو ایران پر ایک کاری معاشی ضرب قرار دے رہے ہیں تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے لیکن اس اقدام کے نتیجے میں عالمی توانائی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکہ کے اس فیصلے کیساتھ ہی بین الاقوامی سطح پر تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی اور توانائی کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب گزشتہ روز ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے پہلی بار ٹول فیس وصول کر کے یہ رقم سینٹرل بینک آف ایران کے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔دنیا کے بڑے تجارتی راستوں میں سے ایک‘ آبنائے ہرمز کی دو طرفہ بندش عالمی معیشت کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔

کھلے سمندروں میں کارگوجہازوں پر حملوں کی نئی جارحانہ حکمتِ عملی دنیا کو ایک ایسے نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے اور یہ اقدام عالمی امن کیلئے ایک سنگین خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں تیل کی کل رسد کا تقریباً 21 فیصد اس راستے سے گزرتا ہے۔ روزانہ دو کروڑ بیرل سے زائد پٹرولیم مصنوعات اس تنگ آبنائے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ یہ گزرگاہ خلیجی ممالک کیلئے بھی لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر دو طرفہ ناکہ بندی سے یہ راستہ بند ہو جاتا ہے تو رسد کی کمی کے سبب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جائے گا۔ محض تیل ہی نہیں‘ یہ خطہ عالمی سطح پر مائع گیس اور کھاد کی ترسیل کا بھی مرکز ہے۔ اکثر ممالک میں خوراک کی فراہمی اور زرعی شعبہ اس خطے سے فراہم ہونیوالی کھاد پر منحصر ہے‘ لہٰذا اس راستے کی بندش سے عالمی غذائی تحفظ کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ خلیج عمان اور خلیج فارس کے پانیوں پر قبضے کی جنگ نے عالمی برادری کو اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری انسانیت کو توانائی اور خوراک کے بدترین بحران میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ان حالات میں امید کی کرن ایران کا یہ اعلان ہے کہ انصاف‘ وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ پاکستانی حکومت بھی مذاکراتی سلسلے کو بحال کرنے کے حوالے سے پُرامید ہے اور مسئلے کا سفارتی حل نکالنے کیلئے دل و جان سے کوشاں ہے۔
ایران کا یہ مؤقف کہ کسی بھی حل تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ مذاکرات کا عمل برابری کی سطح پر ہو نہ کہ دھمکیوں کے سائے میں‘اس بات کا مظہر ہے کہ اگر عالمی طاقتیں سنجیدگی دکھائیں تو اب بھی تصادم کو ٹالا جا سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ فریقین جارحانہ حکمت عملی کے بجائے دانشمندی اور تدبر سے کام لیں اور مذاکرات کی میز پر مسئلے کا پُرامن حل تلاش کریں۔ عالمی بساط پہ انا‘ ضد اور ہٹ دھرمی کی قیمت ملکوں اور قوموں کو اجتماعی طور پر ادا کرنا پڑتی ہے لہٰذا فریقین کو سمجھنا ہو گا کہ لچک کا مطلب کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی ہوتا ہے‘ جس کا مقصد کروڑوں انسانوں کو معاشی تنگدستی اور جنگ کی ہولناکیوں سے بچانا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کو یکجا ہو کر فریقین کو ایک ایسے فریم ورک پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں سکیورٹی خدشات کا ازالہ اور معاشی مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری کو فوقیت دے کر عالمی معیشت کے تحفظ اور خطے کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔