سرمایہ کاری میں کمی
وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں سالانہ بنیادوں پر 33.4 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے اور یہ گھٹ کر ایک ارب 19کروڑ ڈالر تک محدود ہو گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ سرمایہ کاری تقریباً ایک ارب 79کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھی۔ یہ کمی ایک بڑے معاشی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس کے اثرات روزگار‘ صنعتی پیداوار اور مجموعی اقتصادی نمو پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگی توانائی‘ پیچیدہ دفتری طریقہ کار‘ سرکاری معاملات میں غیر معمولی تاخیر اور پالیسیوں میں غیر یقینی کی صورتحال شامل ہیں۔

جب ایک سرمایہ کار کو اپنے منصوبے کی منظوری اور عملی آغاز کیلئے طویل اور پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑے تو وہ اپنا سرمایہ محفوظ اور مستحکم معیشتوں کی طرف منتقل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی طرح مہنگی توانائی کے باعث صنعتی پیداوار کے اخراجات میں مسلسل اضافہ سرمایہ کاری کے منافع کو کم کر دیتا ہے‘ جس سے سرمایہ کار متبادل مارکیٹوں کی طرف رخ کرنے لگتے ہیں۔ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایک جامع اور طویل مدتی معاشی پالیسی وضع کرے جو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکے۔ اس کیلئے توانائی کی قیمتوں میں استحکام‘ بیوروکریٹک اصلاحات اور امن و امان کی بہتری ناگزیر ہے۔