اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تیل اور گیس کی تلاش

تقریباً دو دہائیوں بعد ساحلی علاقے سے تیل اور گیس کی تلاش کے نئے معاہدوں کا عمل خوش آئند ہے۔ اس مقصد کیلئے حکومت نے گزشتہ روز مختلف کمپنیوں کیساتھ 21آف شور بلاکس میں تیل اور گیس کی تلاش کے معاہدے کیے جبکہ دو بلاکس پہلے ہی الاٹ کیے جا چکے ہیں۔یہ بلاکس سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے قریب انڈس اور مکران بیسن میں واقع ہیں۔ پاکستان طویل مدت سے توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کو اپنی ضرورت کیلئے بڑی مقدار میں تیل اور گیس درآمد کرنا پڑتی ہے جس پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اگر اپنی سمندری حدود سے تیل اور گیس کے حصول میں کامیابی مل جائے تو اس سے توانائی کی درآمدات میں کمی آئے گی اور معیشت کو بھرپور سہارا ملے گا۔

تیل اورگیس کی آف شور ایکسپلوریشن کے معاہدوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہونے کا اشارہ بھی مل رہا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق اس منصوبے میں ابتدائی مرحلے میں تقریباً 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی اور اگر ڈرلنگ کامیاب رہی تو یہ سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا دوبارہ آغاز ایک امید افزا قدم ہے۔ اگر حکومت ان شعبے کو بہتر منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کیساتھ آگے بڑھائے تو نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی کا سبب بن سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت‘ روزگار اور ترقی کیلئے بھی نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں