پائیدار امن کیلئے سفارتی کوششوں میں تیزی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک ہفتے میں دوسری بار ایران کے دورے پر جانا اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان امریکہ ایران تنازعے کے حل میں کس عزم کے ساتھ سر گرم ہے۔ سفارتی کوششوں میں آنے والی یہ غیر معمولی تیزی ظاہر کرتی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین پس پردہ جاری رابطے حساس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ وزیر داخلہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بظاہر ایران اور امریکہ کے مابین حتمی معاہدے کیلئے ڈیڈ لاک برقرار ہے تاہم فریقین کی جانب سے لچک کا فقدان امن کی ہر کوشش کو سبوتاژ کر سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی ہولناک جنگ کا خطرہ شدت اختیار کرسکتا ہے ۔ بین الاقوامی برادری یہ محسوس کر رہی ہے کہ اگر اب کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ان حالات میں امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران جنگ سے متعلق صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد ایک بڑی پیشرفت ہے۔ امریکی ایوانِ بالا میں47کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی فوج کے انخلا کی قرارداد منظور کی گئی۔اس قرار داد کے بعد صدر ٹرمپ کیلئے کانگرس کی باضابطہ منظوری کے بغیر جنگ جاری رکھنا غیر قانونی ہوگا۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس قرارداد کے خلاف ویٹو پاور کے استعمال اور صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا اعلان کیا ہے مگر یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کے اندر قانون سازوں کی اکثریت اس کشیدگی کے حق میں نہیں۔ عالمی سطح پر اس وقت سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر ایک بار پھر جنگ کی چنگاری دوبارہ بھڑک اٹھی تو یہ تباہی صرف فریقین یا ان کے قریبی ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس بار سٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم بحیرہ احمر کا خطہ بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی معیشت کیلئے ایک ایسے ڈراؤنے خواب کی طرح ہو گی جس کا تصور ہی لرزا دینے والا ہے۔شاید اس ممکنہ تباہی کے پیشِ نظر عالمی برادری کی بڑی طاقتیں اب کھل کر جنگ بندی اور امن کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔ بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں چین اور روس کے صدور نے متفقہ طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ اس وقت دنیا کو جنگ کی نہیں بلکہ امن کی اشد ضرورت ہے۔ چین اور روس کا یہ مؤقف اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ کسی بھی نئی مہم جوئی کی صورت میں عالمی سیاست کے بلاکس مزید مضبوط ہوں گے اور یہ صورتحال سرد جنگ کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔
دنیا اب مزید کسی جنگی معاشی بوجھ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ خلیج فارس کے خطے میں بحری ناکہ بندی نے تمام بین الاقوامی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ خام تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے سے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک ایسی لہر اٹھی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ ان سنگین حالات میں پائیدار امن کے قیام کیلئے علاقائی ممالک کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب‘ قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی جغرافیائی حدود کے قریب ہونے والی کوئی بھی جنگ ان کے معاشی مقاصد اور ترقیاتی عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہے۔ اسی لیے وہ بھی اب زور دے رہے ہیں کہ سفارتکاری کا راستہ چنا جائے۔ ایسے میں پاکستان کلیدی ثالث کے طور پر دن رات متحرک ہے‘ جس کی شٹل ڈپلومیسی کا محور ممکنہ فوجی تصادم کی روک تھام ہے۔
ایران کیساتھ پیغام رسانی کیلئے ہنگامی دورے اور پے بہ پے ملاقاتیں کچھ مثبت اشارے دے رہی ہیں۔ حج کے بعد دوسرا براہِ راست مذاکراتی دور اسلام آباد میں ہونے کی خبریں بھی زیر گردش ہیں۔ تمنا ہے کہ یہ سفارتی بھاگ دوڑ پُرامن معاہدے پر منتج ہو اور دنیا کے معاشی و سیاسی افق سے بے یقینی کے بادل چھٹ سکیں۔