اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خوردنی تیل کی درآمدات

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان خوردنی تیل درآمد کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں تین ارب 31کروڑ ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران خوردنی تیل کی درآمد پر تین ارب 40کروڑ ڈالر صرف ہوئے جبکہ چھ سال کے دوران خوردنی تیل کا درآمدی بل تقریباً دوگنا ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف زرِمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال رہی بلکہ ہماری زرعی پالیسیوں کی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کے موسمی حالات بھی تیل دار فصلوں کی پیداوار کیلئے موزوں ہیں مگر اسکے باوجود ملکی ضرورت کا صرف 15 فیصد خوردنی تیل مقامی سطح پر پیدا کیا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال اس امر کا ثبوت ہے کہ زرعی شعبے کو قومی معیشت کی بنیاد بنانے کے دعوؤں کے باوجود اس کی سمت درست انداز میں متعین نہیں کی جا سکی۔ اگرچہ حکومت نے 2035ء تک خوردنی تیل کی ضروریات کا 70فیصد مقامی سطح پر پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے‘ مگر محض اعلانات سے یہ خواب حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اس کیلئے عملی اقدامات‘ مستقل مزاجی اور مربوط زرعی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ اگر حکومت واقعی خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی چاہتی ہے تو اسے سورج مکھی‘ کینولا ‘ سویا بین اور دیگر تیل دار فصلوں کی کاشت کو قومی ترجیح بنانا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں