اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

وزیراعظم کا دورۂ چین

وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران دونوں ملکوں کی دوستی کے رشتے اور تزویراتی شراکت داری کو مضبوط تر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان اور چین کی 75سالہ دوستی‘ گہرے اعتماد اور دیرپا تعاون سے جو منفرد رشتہ قائم ہوا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ احساس چینی قیادت کے تاثرات میں بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح پاکستان میں ہے۔ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ کے الفاظ اس دوستی کے جذبے کی سچی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ہونیوالی اس ملاقات میں چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان نے افہام و تفہیم‘ اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پون صدی کی اس دوستی میں پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کو سمجھا‘ ایک دوسرے پر بھروسا کیا اور ایک دوسرے کی حمایت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورے میں پاکستان اور چین میں زراعت‘ تعلیم‘ سائنس و ٹیکنالوجی‘ انسانی وسائل کی ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

پاکستان اور چین کے برادرانہ تعلق کے معاشی امکانات لامحدود ہیں اور پاکستان کئی حوالوں سے ان سے استفادہ کر سکتا ہے۔ مثلاً شعبۂ زراعت میں چین نے جو انقلاب برپا کیے‘ اپنے قابلِ کاشت رقبہ کو جس طرح کثیر جہتی مقاصد کیلئے قابلِ استعمال بنانے کے طریقے رائج کیے ہیں‘ فصلوں کی پیداوار میں جو اضافہ کیا ہے اور بیماریوں سے نمٹنے کیلئے جو حکمت عملی استعمال کی ہے‘ ہمارے زراعت کے شعبے کیلئے چینی زراعت کا ایک ایک پہلو سیکھنے اور تعاون سے فائدہ اٹھانے کا تقاضا کرتا ہے۔ چین زرعی پیداوار اور خوراک کی ایک بڑی منڈی بھی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو یہ اضافی سہولت حاصل ہے کہ فاصلے کی کمی اور باہمی تعلقات کی گہرائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان چین میں اپنی زرعی پیداوار اور خوراک کی مصنوعات کی کھپت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ چینی منڈی کی طلب کو سمجھنے اور اس کو پورا کرنے کیلئے زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا سورج بھی اب چین سے طلوع ہوتا ہے۔ جدید ترین کمپیوٹر ٹیکنالوجی‘ آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ فزکس‘ میڈیکل اور دیگر سائنسی علوم میں چین کی ترقی محیر العقول ہے‘ اور ہمارے لیے دعوتِ فکر۔

پاکستان کیلئے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے میں کئی طرح سے آسانیاں ہیں؛ چنانچہ ضروری ہے کہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔ نوجوان ریسرچرز اور سائنسدانوں کو چینی علمی و تحقیقی اداروں میں سیکھنے کے مواقع بہم پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں پچھلے کچھ عرصے میں کام ہوا ہے مگر اس کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ چین کی معیشت کی ترقی میں صرف کارخانوں کا نہیں وہاں کے کاروباری اداروں اور چھوٹی اور درمیانی صنعتوں اور کاروباروں کا اہم ترین کردار ہے۔ چینی اور پاکستانی کاروباری طبقات میں باہمی ربط اور ہم آہنگی پاکستان میں کاروباری ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ چین کی صنعتوں کو پاکستان لانے کی ضرورت و اہمیت بھی محتاجِ بیان نہیں۔ چین کی صنعتیں جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں پھیل چکی اور وہاں کی صنعتی ترقی کی قوتِ محرکہ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ویتنام ایک بڑی مثال ہے۔ پاکستان میں چینی صنعتوں کو لانے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ یہی دو ملکی معیشت کی نمو کے بنیادی تقاضے ہیں۔

سی پیک کے تحت ملک بھر میں شاہراہوں کے جال بچھ گئے‘ پل تعمیر ہو گئے اور آمدورفت ملک کے طول و عرض میں محفوظ اور آسان ہوئی مگر سی پیک کیساتھ منسلک ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک کہ سپیشل اکنامک زونز میں صنعتی رونقیں نہیں بڑھائی جاتیں۔ اس کیلئے ترجیحی بنیادوں پرکام کرنے کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں