فری لانسنگ آمدنی
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر زرِمبادلہ کمایا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔ ایک سال کے دوران فری لانسرز کی آمدنی میں 49 فیصد اضافہ اس شعبے کی غیر معمولی ترقی کو ظاہر کرتا اور اس شعبے میں آمدنی کے روشن امکانات کاعکاس ہے۔ ایسے وقت میں جب روایتی ملازمتوں کے مواقع محدود ہو رہے ہیں‘ فری لانسنگ کا شعبہ نوجوانوں کیلئے روزگار کا ایک مؤثر اور پُر کشش متبادل بن کر ابھر رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق فری لانس پلیٹ فارمز کی مارکیٹ کی مالیت 2025ء میں چھ ارب ڈالر سے زیادہ تھی اور 2033ء تک یہ 24 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ‘ مصنوعی ذہانت‘ ڈیجیٹل مارکیٹنگ‘ کانٹینٹ کری ایشن‘ گرافک ڈیزائننگ‘ ویڈیو پروڈکشن اور ای کامرس جیسے شعبے اس مارکیٹ کی بنیاد ہیں۔

ملک کے بے روزگار نوجوان ان شعبوں میں عالمی معیار کی مہارتیں حاصل کرکے نہ صرف خود خوشحال ہو سکتے ہیں بلکہ ملک کیلئے اربوں ڈالر کے اضافی زرِمبادلہ کا حصول بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ اگر حکومت‘ تعلیمی ادارے‘ نجی شعبہ اور مالیاتی ادارے مل کر ایک جامع حکمت عملی اختیار کریں تو پاکستان نہ صرف خطے میں فری لانسنگ کا ایک بڑا مرکز بن سکتا ہے بلکہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ کر کے معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کر سکتا ہے۔