اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجٹ‘ محصولات اور اعتماد کا بحران

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے کچھ روز پہلے کہا تھا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر معیشت کے ان شعبوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا جو اَب تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند اعلان ہے کیونکہ ہمارے ہاں ٹیکس کا نظام طویل عرصے سے عدم توازن کا شکار ہے۔ یہاں تنخواہ دار طبقہ‘ رجسٹرڈ کاروبار اور دستاویزی معیشت سے وابستہ لوگ تو ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ معیشت کا ایک بڑاحصہ اس ذمہ داری سے تقریباً آزاد ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس بار واقعی صورتحال مختلف ہو گی یا ماضی کی طرح اضافی بوجھ پھر انہی طبقات پر پڑے گا جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں ہیں؟ مالی سال 2026-27 ء کے لیے ایف بی آر کا ہدف 15267 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جورواں مالی سال کے مقابلے میں  تقریباً 13.7 فیصد یا 1833 ارب روپے زیادہ بنتا ہے۔ ان اضافی محصولات کے لیے آئی ایم ایف نے جو اصلاحات تجویز کی ہیں ان میں صوبوں کو اضافی 430ارب روپے جمع کرنے کے علاوہ پٹرولیم لیوی میں اضافے سمیت کئی طرح کے اقدامات شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی ان ہدایات کی روشنی میں بظاہر یہ ماننا مشکل ہے کہ آنے والا بجٹ نئے ٹیکسوں سے بالکل پاک ہو گا‘ بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ نیا مالی بوجھ کتنا ہو گا۔

جہاں تک ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور کمپلائنس اور انفورسمنٹ کی بات ہے تو یہ اصولی طور پر درست بلکہ ناگزیر ہے کہ غیردستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ ملکِ عزیز کی معیشت کا ایک بڑا حصہ بدستور نقد لین دین پر مشتمل ہے اور مختلف اندازوں کے مطابق معیشت کا ایک وسیع حصہ مکمل طور پر دستاویزی نظام سے باہر ہے۔ اگر ہول سیل اور ریٹیل تجارت‘ ریئل اسٹیٹ اور زرعی آمدنی کے بڑے حصے اور دیگر غیررجسٹرڈ شعبے ٹیکس نظام میں شامل ہو جائیں تو نہ صرف محصولات میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ٹیکس نظام میں انصاف بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ہر سال بجٹ سے پہلے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ٹیکس چوری کرنیوالوں اور ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا لیکن بجٹ کے نفاذ کے بعد یہ بھاری پتھر کوئی بھی نہیں اٹھاتا اور ٹیکس کا بوجھ حسبِ معمول بالواسطہ ٹیکسوں اور پہلے سے ٹیکس دینے والوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی عوام اور ماہرینِ معیشت ’مزید ٹیکس‘ کے بجائے ’مزید ٹیکس دہندگان‘ کے حکومتی دعوے کو محتاط نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ معیشت کا سب سے بڑا چیلنج صرف محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ عوامی اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔ جب ایک ٹیکس گزار ملازم اپنی تنخواہ سے باقاعدگی سے ٹیکس کٹتا دیکھتا ہے مگر غیر رجسٹرڈ شعبوں کو کوئی نہیں پوچھتا تو اس سے نظام کے بارے میں بے اعتمادی پیدا ہونا یقینی ہے۔ یہی احساس ٹیکس کلچر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ چنانچہ محض ٹیکسوں میں اضافہ یا نئے اہداف مقرر کر دینا مسئلے کا حل نہیں اصل ضرورت انتظامی اصلاحات‘ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ‘ ٹیکس چوری کی روک تھام‘ سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کی ہے۔

اگر صنعتیں اور کاروبار ترقی کریں گے تو محصولات خود بخود بڑھیں گے لیکن اگر معاشی سرگرمی سست رہی اور محصولات کا بوجھ صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر پڑتا گیا تو سرمایہ کاری‘ روزگار اور معاشی نمو پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس نقطہ نظر سے آئندہ بجٹ حکومت کیلئے ایک امتحان ہے۔ اگر واقعی غیردستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو گی لیکن اگر ماضی کی روایت برقرار رہی اور محصولات کا بھاری بوجھ تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی معیشت پر ڈالا گیا تو نہ صرف عوامی بے چینی بڑھے گی بلکہ ٹیکس نظام پر اعتماد بھی مزید کمزور ہو گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں