اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موسمیاتی بقا کا چیلنج

ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030ء تک جنوبی ایشیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی شدید گرمی کی لہر سے دوچار ہو سکتی ہے۔ پاکستان اس بحران کے مرکز میں کھڑا ہے‘ جہاں ملتان‘ بہاولنگر‘ جیکب آباد‘ لاڑکانہ‘ سکھر اور دادو سمیت نو اضلاع میں شدید حدت کے باعث ناقابلِ رہائش حالات پیدا ہو نے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔بڑھتا ہوا درجہ حرارت‘ طویل ہیٹ ویوز‘ پانی کی قلت‘ شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ اور کمزور ماحولیاتی منصوبہ بندی ان خطرات کو دو چند کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگرچہ خطرے کا یہ نشان اب زیادہ دور نہیں‘ تاہم ماہرین کے مطابق اگر حکومت اور عوام مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو آنیوالے چار برس فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں حکومتی سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

شہروں میں اربن ہیٹ آئی لینڈ اثر کم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر شجرکاری‘ پارکس اور گرین کوریڈورز کی بحالی ضروری ہے۔ اسی طرح عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو 50 ڈگری سینٹی گریڈ جیسے شدید درجہ حرارت کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر بھی رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔  پاکستان کوکم کاربن اخراج کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا ہے۔  لہٰذا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ  پاکستان کو کلائمیٹ فنانس تک آسان رسائی‘ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈیزاسٹر ریزیلینس منصوبوں میں تعاون یقینی بنائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں