بلند ترین مہنگائی
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق مئی میں افراطِ زر کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران ٹرانسپورٹ کرایے 37 فیصد‘ ہاؤسنگ‘ پانی‘ بجلی‘ گیس اور ایندھن 17 فیصد‘ خوراک 8 فیصد‘ تعلیم 8.37 فیصد اور صحت کی سہولتیں 7.54 فیصد مہنگی ہو چکی ہیں۔ یہ صورتحال عام آدمی کی قوتِ خرید کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔ گوکہ مہنگائی میں اضافے کے پس منظر میں عالمی اور علاقائی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ تاہم تمام ذمہ داری بیرونی عوامل پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ حکومتی بدانتظامی‘ کمزور نگرانی‘ ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے میں ناکامی اور پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور ٹیکسوں نے مہنگائی کو بڑھاوا دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ‘ زراعت‘ صنعت اور اشیائے خورونوش سب کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ آج متوسط اور کم آمدنی والا طبقہ اپنی آمدن اور اخراجات کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج سے پریشان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں میں فوری کمی کرے‘ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں لانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے۔ اگر فوری سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کریں گی بلکہ معاشی استحکام‘ سماجی ہم آہنگی اور حکومتی ساکھ کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔