اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

عام آدمی کا مسئلہ

پاکستان معدنی وسائل‘ زرعی پیداوار‘ نوجوان اکثریتی آبادی‘ جغرافیائی اہمیت اور بڑی آبادی ہونے کے ناتے بڑی منڈی کا حامل ملک ہے۔ مگر ملکی معیشت میں وہ اٹھان پیدا نہیں ہو سکی جو اصولی طور پر ان اسباب کے نتیجے میں ہونی چاہیے تھی۔ بادی النظر میں مسئلہ وسائل کا نہیں ناقص تقسیم‘ بدانتظامی اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے اعداد وشمار اس حقیقت کو مزید واضح کریں گے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق 2021ء میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 4764 ارب روپے تھیں جو 2025ء تک بڑھ کر تقریباً 11744ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ یعنی اس دوران قومی خزانے میں تقریباً سات ہزار ارب روپے کا اضافی ٹیکس جمع ہوا جبکہ نان ٹیکس ریونیو 1505ارب روپے سے بڑھ کر 5056 ارب روپے تک پہنچ گیا اور سیلز ٹیکس1990ارب روپے سے بڑھ کر 3901 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ کسی معمولی معیشت میں ممکن نہیں ہوتا۔ اگر ملک واقعی وسائل سے محروم ہوتا تو اتنی بڑی مالیاتی وسعت پیدا نہ ہو سکتی۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب ٹیکس وصولیوں میں اتنا نمایاں اضافہ ہوا تو عوام کی زندگی میں بہتری کیوں نہیں آئی؟ عام شہری آج بھی مہنگائی‘ بیروز گاری‘ صحت اور تعلیم کے ناقص نظام اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار کیوں ہے؟

ملک میں مہنگائی کی شرح اس وقت 11.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ 2021ء میں یہ 8.6 فیصد تھی۔ 2021ء سے 2025ء کے دوران بیروزگاری کی شرح بھی 6.3 فیصدسے بڑھ کر 6.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پانچ برسوں میں حکومتی محصولات میں 146.5فیصد اضافے کے باوجود عوام کے حالات نہیں بدلے‘ معاشی دلدر بدستور بلکہ پہلے سے زیادہ ہیں۔ اس کا جواب حکومتی اخراجات کے ماڈل میں ہے۔ وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ ترقیاتی منصوبوں کے بجائے قرضوں کے سود‘ انتظامی اخراجات اور غیر پیداواری مدات میں صرف ہو جاتا ہے نتیجتاً تعلیم‘ صحت‘ توانائی‘ تحقیق‘ ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کیلئے محدود وسائل بچتے ہیں۔ یہاں تعلیم پر سرکاری اخراجات کا ذکر برمحل ہوگا جسکے بارے ایک رپورٹ کہتی ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں سے اخراجات میں اضافے کے بجائے کمی کا رجحان ہے۔ 2019-20ء میں تعلیمی اخراجات جی ڈی پی کا 1.9فیصد تھے جو 2020-21ء میں کم ہو کر 1.4فیصد ہو گئے‘ 2021-22 ء میں ان میں عارضی طور پر اضافہ ہوا مگر 2022-23ء میں دوبارہ 1.5 فیصد پر آ گئے جبکہ 2024-25ء کے پہلے نو ماہ کے دوران یہ اخراجات جی ڈی پی کے 0.8 فیصد کے برابر تھے۔ یعنی ریونیو میں اضافے کے اثرات عوام کو منتقل ہونے کے شواہد ڈھونڈنا کارِ حاصل ہے۔ ایک اور مسئلہ ٹیکس کے بوجھ کی غیر مساوی تقسیم کا ہے۔

ٹیکس نیٹ میں شامل افراد اور شعبوں کی تعداد محدود ہے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ عام صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے جسکے نتیجے میں بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو اسکا سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں ٹیکس چھوٹ اور مراعات کی مالیت کھربوں روپے تک پہنچ چکی ہے جو قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے اور چوری کے امکانات کا سدباب کیا جائے تو ریاست کو کہیں زیادہ وسائل دستیاب ہو سکتے ہیں۔ مگر جب تک سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی‘ غیر ضروری اخراجات کم نہیں کیے جاتے اور وسائل کو انسانی ترقی پر خرچ نہیں کیا جاتا تب تک محض زیادہ ٹیکس وصول کرنا عوام کی مشکلات کم نہیں کر سکے گا اور نہ ہی قومی ترقی کی رفتار میں مطلوبہ اضافہ ممکن ہے۔ ملکی معیشت میں صلاحیت کی کمی نہیں‘ ضرورت شفاف حکمرانی‘ پالیسی تسلسل اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور حقیقی کفایت شعاری اختیار کر نے کی ہے۔ کیا آنے والے بجٹ میں اس حوالے سے اصلاح کے کوئی اقدامات ہوں گے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں