اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سپر ال نینو‘ خطرے کی گھنٹی

عالمی ادارۂ موسمیات (ڈبلیو ایم او) کی حالیہ گلوبل سیزنل اَپ ڈیٹ پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سال اگست تک ’’سپر ال نینو‘‘ کے امکانات 80 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو دہری موسمی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سپر ال نینو کے باعث ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جس سے شدید گرمی‘ خشک سالی اور ہیٹ سٹروک جیسے خطرات بڑھ جائیں گے جبکہ شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک اور شدید سیلابی ریلوں کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ ممکنہ صورتحال ملک کے انفراسٹرکچر اور ناقص واٹر مینجمنٹ سسٹم کیلئے کڑا امتحان ہوگی۔پاکستان عالمی موسمیاتی خطرات سے شدید متاثرہے۔

یہاں کبھی غیر متوقع اور بے وقت بارشیں تباہ کن سیلابوں کا باعث بنتی ہیں تو کبھی طویل خشک سالی زرعی معیشت کو جکڑ لیتی ہے۔ شدید ہیٹ ویوز معمول بنتی جا رہی ہیں جبکہ درجہ حرارت میں اضافہ انسانی زندگی‘ صحت اور معیشت کیلئے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔اس صورتحال میں محض وقتی اقدامات کافی نہیں۔ ملک کو جامع اور طویل مدتی موسمیاتی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں پانی کے ذخائر بڑھانے‘ جدید ارلی وارننگ سسٹم کو مؤثر بنانے‘ شہری منصوبہ بندی کو موسمیاتی حقائق سے ہم آہنگ کرنے اور جنگلات کے تحفظ جیسے اقدامات کو ترجیح دی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں