اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بچت میں کمی کے اسباب

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں قومی بچت کی شرح گزشتہ 30 برس کی کم ترین سطح یعنی 6.4 فیصد تک گر چکی ہے۔ 1992ء میں یہ شرح تقریباً 17.4 فیصد تھی۔بچت میں کمی محض معاشی اشاریہ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت کا اندرونی توازن بگڑ چکا ہے۔ کم بچت براہِ راست سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دیتی ہے جس کے نتیجے میں ملک بار بار بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ تاہم اس پورے مسئلے کا سب سے اہم اور زمینی پہلو عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ جب آمدن کا بڑا حصہ کرائے‘ بجلی‘ گیس‘ خوراک اور علاج جیسے بنیادی اخراجات میں ہی صرف ہو جائے تو عام آدمی کیلئے بچت ناممکن حد تک مشکل عمل بن جاتی ہے۔

مہنگائی کی بلند سطح نے حقیقی قوتِ خرید کو کم کر دیا ہے جبکہ اجرتوں میں اضافہ اس رفتار سے نہیں ہوا جس سے بچت کے امکانات پیدا ہو سکیں۔ نتیجتاً شہری روزمرہ اخراجات اور مالی دباؤ کے درمیان ایک مستقل توازن کی جنگ لڑ رہے ہیں۔مہنگائی پر قابو اور حقیقی اجرتوں میں اضافے کے بغیر بچت کا کلچر فروغ نہیں پا سکتا۔ لہٰذا حکومت کو عام آدمی کی آمدن میں اضافے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر بچت کے گرتے ہوئے رجحان کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے اثرات صرف معاشی اشاریوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عام آدمی کی مالی سلامتی‘ سماجی استحکام اور مستقبل کی منصوبہ بندی بھی متاثر ہو گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں