مشرق وسطیٰ نئے بحران کا شکار
ایران اور اسرائیل میں کشیدگی کے حالیہ واقعات پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں تشدد میں اضافے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹر بیان میں کہا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی غیر مستحکم جنگ بندی کے خطرات کو اجاگر کر رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فریقین پر حملے بند کرنے کیلئے زور دیا ہے۔ ٹرُتھ سوشل پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کیلئے حتمی مذاکرات جاری ہیں مگر یہ عمل جہالت یا حماقت سے متاثر ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا خدشہ بے جا نہیں۔ امریکہ اور ایران میں قیامِ امن کی کوششیں نازک مرحلے میں ہیں‘ جنہیں اسرائیل ایران کشیدگی سے نقصان کا اندیشہ ہے۔ امریکہ اور ایران میں پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور معاہدے کی مختلف صورتیں زیر غور ہیں‘ تاہم اسرائیل کی انتہا پسندی اور ایران کے ردِعمل سے معاملات بگڑ بھی سکتے ہیں؛ چنانچہ اس صورتحال میں امریکہ اور ایران کو زیادہ تحمل اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے یقینی بنانا ہو گا کہ وہ اسرائیل کی اس چال میں آنے سے بچ جائیں جو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ نہیں چاہتا اور اسکی آڑ میں امریکی چھتری تلے اپنے ناپاک منصوبوں کو آگے بڑھانے کا موقع تلاش کر رہا ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد لبنان کیخلاف بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل کسی نہ کسی طرح جنگ بھڑکائے رکھنا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ امریکہ اس دلدل سے نکلے۔ امریکہ ایران جنگ بندی کے وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل کی لبنان کے خلاف جارحیت میں تیزی آتی چلی گئی اور حالیہ دنوں اس کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔ اس دوران شہری آبادیوں پر صہیونی حملوں سے عام شہریوں کے جانی اور مالی نقصان کے واقعات میں المناک اضافہ ہوا۔ اسرائیل کی اس جارحانہ کارروائی سے واضح نظر آ رہا ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے جو امریکہ ایران امن کوششوں کو پٹڑی سے اتار دیں اور خطہ وسیع کشیدگی کا شکار ہو جائے۔ صہیونی ریاست کے یہ عزائم امریکہ‘ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر کے مفادات کیلئے خطرہ ہیں۔ توانائی کی دولت سے مالا مال اس خطے کی عالمی معیشت اور ترقی کیلئے کیا اہمیت ہے یہ آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی اور دیگر وسائل کی سپلائی کی رکاوٹوں سے ظاہر ہو چکا ہے۔ اس اہم خطے میں اسرائیل اگر کشیدگی کو ہوا دیتا‘ پھوٹ ڈالتا اور دشمنیاں پیدا کرتا ہے تو اس کا نقصان خود امریکہ کو بھی ہے اور باقی دنیا کو بھی۔
اس المناک صورتحال سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اسرائیل کو لگام دی جائے‘ بصورت دیگر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام خواب وخیال ہی رہے گا۔ تاہم ایران اور امریکہ میں ممکنہ امن معاہدے کے باوجود اگر اسرائیل کی علاقائی جارحانہ پالیسی میں تبدیلی نہیں آتی تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا اور یہ کشیدگی جو اس وقت خلیج فارس تک محدود ہے‘ بحیرہ احمر تک پھیل سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کیلئے امریکہ اور اسرائیل میں تعلقات کی مساوات پر نظر ثانی ضروری ہو چکی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ تندوتلخ ٹیلی فونک گفتگوسے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شاید کسی سطح پر واشنگٹن میں یہ سوچ پیدا ہو چکی ہے۔ مگر ہر چیز جو پیدا ہوتی ہے اس کا پروان چڑھنا ایک ارتقائی عمل کا مرہون منت ہوتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے باب میں امریکی پالیسی میں وقت کس قسم کی تبدیلیاں لے کر آتا ہے۔
مگر اس میں دو رائے نہیں کہ امریکہ اگر صہیونی ریاست کی تمام تر جارحیت کے باوجود اس کیساتھ کھڑا رہے گا اور صہیونی ریاست سے کوئی باز پرس نہیں ہوتی تو مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ اس تناظر میں امریکہ ایران امن معاہدے کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے تاکہ اسرائیل کی علاقائی جارحیت کی روک تھام کیلئے امریکہ کو قائل کرنا آسان ہو سکے۔