گندم خریداری
پنجاب حکومت نے پاسکو سے 10 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ حکومت کو اس سال کسانوں سے گندم کی خریداری کا مطلوبہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ گندم ہماری خوراک کا بنیادی جزو ہے مگر اس کی خریداری کے حوالے سے سرکاری پالیسیاں غیر مستحکم رہی ہیں نتیجتاً ملک میں گندم کی پیداوار بے یقینی کا شکار رہتی ہے۔ پنجاب حکومت نے اس سال محکمہ خوراک کے ذریعے کسانوں سے گندم خریدنے کے بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت نجی کمپنیوں کو گندم خریدنے کیلئے نامزد کیا مگر گونا گوں مسائل کی وجہ سے یہ ماڈل کامیاب نہیں ہو سکا۔

مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھ گئی اور آٹا مہنگا ہونے سے روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ ہو گیا؛ چنانچہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اب حکومت کو پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔ ہر سال گندم کی خریداری اور قیمتوں سے متعلق پالیسیوں میں اچانک تبدیلیوں نے کسانوں کو مایوسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔ اس بددلی کا خطرناک اثر یہ ہے کہ اب کاشتکار گندم کو چھوڑ کر دیگر فصلوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں‘ جس سے ملک میں گندم بحران کے خدشات سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت اگر غذائی تحفظ کیلئے سنجیدہ ہے تو اسے عارضی اور ہنگامی اقدامات کے بجائے طویل مدتی اور پائیدار زرعی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی۔