نئے مالی سال کے اہداف
قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27ء کے قومی ترقیاتی بجٹ سمیت وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں کی منظوری دے دی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے معیشت کی شرح نمو چار فیصد‘ زراعت کی نمو کا ہدف 3.6 فیصد‘ خدمات کے لیے 4.2 فیصد اور مہنگائی بڑھنے کی شرح 8.2 فیصد تک رکھنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اجلاس کا ایک اہم فیصلہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 920 ارب روپے کی کمی پر اتفاق ہے۔ قومی اقتصادی کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ مالی سال کیلئے بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی نہیں ہو گی اور اس کا ترقیاتی بجٹ 308 ارب روپے پر برقرار رہے گا‘ البتہ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کر کے 749 ارب روپے‘ سندھ کا ترقیاتی بجٹ 816 ارب سے 706 ارب اور خیبر پختونخوا کا ترقیاتی بجٹ 564 ارب سے 455 ارب روپے کر دیا گیا۔ نیشنل اکنامک کونسل کی جانب سے صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کا فیصلہ ایک طرف جہاں آئی ایم ایف کی شرائط کی تکمیل‘ مالیاتی خسارے میں کمی اور قومی سلامتی ودفاع کیلئے اضافی فنڈز کی فراہمی جیسے ناگزیر مقاصد حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا وہیں عوامی اور صوبائی سطح پر اس کے گہرے اثرات بھی ہوں گے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں صوبائی ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں اور تعمیرات سے متعلق صنعتیں متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ اگر آئندہ مالی سال کے اہداف کی بات کی جائے تو شرح نمو کا چار فیصد ہدف یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی معیشت اب بھی بحالی کے لیے سرگرداں ہے۔ مالی سال 2021ء اور 22ء میں شرح نمو بالترتیب 5.77 اور 6.18 فیصد رہی مگر اگلے ہی سال یہ 0.4 فیصد کی سطح تک گر گئی۔ اگلے دوبرسوں میں یہ شرح 2.62 اور 3.12 فیصد رہی اور رواں برس 3.7 فیصد کا تخمینہ ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو چار فیصد کا ہدف حاصل کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ ہر سال آبادی میں 2.55 فیصد کی شرح سے 55 لاکھ نفوس کا اضافہ اور روزگار کی مارکیٹ میں نئے داخل ہونے والے نوجوانوں کی بڑھتی تعدادکے سبب یہ شرح ہماری ملکی ضروریات کو پورا نہیں کرتی تاہم دگرگوں عالمی اقتصادی حالات کے دور میں چار فیصد شرح نمو بھی ایک چیلنج معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح خدمات کیلئے 4.2 فیصد کا ہدف رواں مالی سال کی حاصل کردہ 4.9 فیصد شرح سے کم ہے۔ اس ہدف میں کمی کو حکومتی سطح پر سرمایہ کاری کے سکڑنے اور صنعتی بندش کے اعتراف پر محمول کیا جا سکتا ہے۔
زراعت کیلئے بھی 3.6 فیصد کا ہدف محل نظر ہے‘ خاص طور پر ایسے وقت میں جب گزشتہ برس زراعت کی نمو 1.53 فیصد اور رواں برس 2.89 فیصد ریکارڈ کی گئی ہو۔ مالی سال 2023ء میں زراعت کی نمو 6.4 فیصد تھی یعنی صنعت‘ خدمات اور معاشی نمو سے لگ بھگ دو گنا۔ مگر حالیہ عرصے میں شعبہ زراعت کے ساتھ روا رکھے گئے حکومتی برتاؤ نے اس شعبے کی قوت نمو کو بڑی ٹھیس پہنچائی ہے۔ مہنگے ڈیزل اور بہت مہنگے زرعی مداخل کے علاوہ شدید موسمی تغیرات نے بھی زرعی شعبے کیلئے کڑے چیلنجز پیدا کئے ہیں۔ اس کا اثر زرعی پیداوار پر ہر سال بڑھتا جا رہا ہے۔ زراعت وہ شعبہ ہے جو تیزی سے نمو دکھا سکتا ہے مگر اس جانب حکومتی توجہ اسی قدر کم ہے۔ اگر اس شعبے پر توجہ دی جائے‘ کسانوں کو بدلتے موسمی حالات کے موافق فصلوں سے متعلق آگاہی دی جائے تو اس کے مثبت اثرات ہر اُس شعبے پر پڑیں گے جو دیہی آبادی کی معیشت کے ساتھ کسی بھی طرح سے منسلک ہے۔
نئے مالی سال میں حکومت کا سب سے بڑا چیلنج مہنگائی پر قابو پانا‘ اسے مناسب حد میں رکھنا اور عوام کو اس کے منفی اثرات سے بچانا ہو گا۔ جاری مالی سال میں افراطِ زر 7.5 فیصد کی بالائی سطح سے کہیں بڑھ کر 11.7فیصد کے قریب ہے‘ لہٰذا مہنگائی کی شرح کو دوبارہ ایک ہندسے میں لانا اور اس سطح پر برقرار رکھنا حکومت کیلئے بڑا امتحان ہو گا۔