بلوچستان کا بجٹ
گزشتہ روز بلوچستان حکومت نے مالی سال 2027ء کا 1089 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیاہے‘ جس کا صرف 27 فیصد ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کیلئے‘ جہاں نئے ترقیاتی منصوبے ناگزیر ہیں‘ یہ بجٹ ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ تعلیم کے شعبے کو اہمیت دیتے ہوئے 157ارب روپے مختص کیے گئے ہیں‘ جو گزشتہ بجٹ کی نسبت لگ بھگ 23فیصد زائد ہے۔ صحت کے شعبے کیلئے تقریباً 74 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں صحت کا نظام بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے‘ یہ حصہ زمینی ضروریات کے مقابلے میں محدود نظر آتا ہے۔ حکومت نے سرکاری مشینری کو رواں رکھنے کیلئے 257 ارب روپے مختص کیے ہیں‘ یعنی بجٹ کا تقریباً 25فیصد حصہ انتظامی ڈھانچے پر صرف ہو رہا ہے۔

حالیہ قومی اقتصادی سروے کے مطابق صوبے کی 47 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے۔ اس کے باوجود بجٹ میں غربت کے خاتمے اور آمدن میں اضافے کے ایسے جامع پروگرام نظر نہیں آتے جو نچلے طبقے کی معاشی حالت کو بہتر بنا سکیں۔ یہی اس بجٹ کا سب سے بڑا سٹرکچرل خلا ہے۔ بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کے ازالے کیلئے بجٹ کو عوام دوست‘ شفاف اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اسی کسوٹی پر اس بجٹ کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوگا۔