اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سندھ کابجٹ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے 3560ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ بجٹ دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ 2706ارب روپے‘ یعنی تقریباً 72فیصد بجٹ غیرترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ ان میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنز بھی شامل ہیں‘ جن میں سات‘ سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں ترقیاتی سکیموں کیلئے 720 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم ہیں۔ حالانکہ ترقیاتی اخراجات کسی بھی معیشت میں روزگار‘ بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ شعبۂ تعلیم کیلئے رواں مالی سال کے مقابلے میں معمولی اضافے کیساتھ 620 اور شعبۂ صحت کیلئے 393ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ زراعت کیلئے 41 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال سے تقریباً پانچ ارب روپے کم ہیں۔

یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب موسمیاتی تبدیلی‘ آبی قلت اور پیداواری لاگت نے زرعی شعبے کو پہلے ہی شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ بجٹ کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے صرف کراچی کیلئے ٹرانسپورٹ‘ نکاسی آب‘ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ‘ بی آر ٹی منصوبوں اور سڑکوں کی تعمیر و توسیع کیلئے 100ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے ہیں۔ مگر فنڈز مختص کرنے سے زیادہ ضروری ان کا بروقت اور شفاف استعمال ہے کیونکہ عوام کو اعلانات سے زیادہ نتائج درکار ہیں‘ اور یہی نتائج اس بجٹ کی افادیت فیصلہ کریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں