اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی اور افغانستان

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا براہِ راست تعلق افغانستان سے ہے‘ اس مسئلے پر پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان بات چیت اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیار ہے مگر اس کی ضمانت دینا ہو گی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار سے ہونیوالی شورش کا شکار ہے اور وزیر دفاع کا یہ بیان اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب تک مغربی سرحد کے اُس پار موجود محفوظ پناہ گاہوں اور سہولت کاری کا سلسلہ بند نہیں ہوتا‘ تب تک ملک کے اندر پائیدار امن کا حصول محال ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ سب سے زیادہ پاکستان نے بھگتا ہے۔پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے کابل انتظامیہ کیساتھ کئی مذاکراتی ادوار کیے‘ اعلیٰ سطحی وفود نے دورے کیے اور سفارتی سطح پر تحفظات کا تبادلہ بھی ہوتا رہا لیکن ان تمام تر کوششوں کے باوجود مسائل جوں کے توں رہے‘ حتیٰ کہ ناچار ہو کر رواں سال فروری‘ مارچ میں پاکستان کو غضب للحق جیسے ٹارگٹڈ آپریشن اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے اپنے دفاع کے حق کو یقینی بنانا پڑا۔

دہشت گردی کا ابھرتا ہوا مسئلہ محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ یہ پاکستان کے معاشی تسلسل اور مجموعی استحکام کیلئے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔پاکستان اس وقت نازک معاشی موڑ پر کھڑا ہے‘ جہاں اسے بیرونی سرمایہ کاری‘ صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال نہ صرف پورے معاشی ڈھانچے کیلئے خطرہ ہے بلکہ یہ حکومت کو اپنے قیمتی وسائل عوامی فلاح و بہبود اور معاشی بحالی پر خرچ کرنے کے بجائے سکیورٹی انتظامات پر منتقل کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ دہشتگردی کے سبب گزشتہ دو عشروں میں پاکستان 152ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھا چکا جبکہ 90ہزار سے زائد قیمتی جانیں اس جنگ کا نوالہ بن گئیں۔ ایک سکیورٹی تنظیم کے مطابق گزشتہ ماہ (مئی) دہشت گردی کے واقعا ت میں 27فیصد اضافہ ہوا۔ 71 شہری‘ امن کمیٹیوں کے چھ ارکان اور 68سکیورٹی اہلکار شہید اور 185افراد زخمی ہوئے۔ اپریل کے مقابلے میں‘ شہری جانی نقصان میں 92فیصد جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں 68فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار دہشتگردی کے خلاف جامع اور جارحانہ حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں۔اس بڑھتے ہوئے خطرے کے سدباب کیلئے ریاست اپنی اندرونی دفاعی لائن کو مزید مضبوط اور فول پروف بنائے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے وفاق‘ صوبوں اور تمام عسکری و سویلین اداروں کے مابین ایک مضبوط‘ مربوط اور فعال کوآرڈی نیشن ناگزیر ہے۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو روکنے میں پہلا کردار مقامی انتظامیہ اور پولیس کا ہوتا ہے‘ لہٰذا فرنٹ لائن پر لڑنے والی پولیس اور مقامی انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جانا اور ان کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ دہشتگردی کا درپیش چیلنج کثیر جہتی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کی خاطر نتیجہ خیز اور بامقصد مذاکرات کیلئے ہمیشہ تیار رہتا ہے اور اب بھی اس عزم پر قائم ہے لیکن اس مرتبہ یہ مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل سے پیشتر کابل کی عبوری انتظامیہ کو یہ ٹھوس ضمانت دینا ہوگی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہو گی۔

جہاں ہمیں سفارتی محاذ پر افغانستان کو اس کی بین الاقوامی اور ہمسائیگی کی ذمہ داریاں باور کرانا اور ٹھوس اقدامات پر مجبور کرنا ہو گا‘ وہاں اندرونی محاذ پر ذاتی‘ گروہی اور سیاسی بیانیے چھوڑ کر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔ جب تک پورا ملک یکجا ہو کر اس فتنے کیخلاف کھڑا نہیں ہوگا تب تک معاشی استحکام اور پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں ہو سکے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں