آم، برآمدات اور رکاوٹ
پاکستانی آم اپنے ذائقے‘ خوشبو اور معیار کی وجہ سے عالمی شہرت کے حامل ہیں‘ ان کی بہت بڑی طلب ہے۔پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات ملک کیلئے زرِمبادلہ کا اہم ذریعہ بھی بن سکتی ہیں‘ تاہم رواں برس آم کی برآمدات میں تقریباً 30 فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جو نہ صرف کاشتکاروں اور برآمد کنندگان بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی تشویش کا باعث ہے۔پھلوں اور سبزیوں کے برآمد کنندگان کی تنظیم کے مطابق گزشتہ سال تقریباً ایک لاکھ دس ہزار ٹن آم برآمد کیے گئے جن سے قریب 110 ملین ڈالر زرِمبادلہ حاصل ہوا جبکہ رواں سال برآمدات 75 سے 80 ہزار ٹن کے درمیان رہنے کا امکان ہے اور آمدن بھی کم ہو کر 75 سے 80 ملین ڈالر تک محدود رہ سکتی ہے۔ برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور علاقائی تجارتی رکاوٹیں ہیں۔

خلیجی ممالک‘ ایران اور افغانستان پاکستانی آم کے اہم خریدار ہیں اور مجموعی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد انہی منڈیوں میں جاتا ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی آئی اور تجارتی سرگرمیوں کیلئے نسبتاً سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔ حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کیساتھ آم کی تجارت کو مزید فروغ دینا چاہیے۔ صرف تازہ آم برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن پر بھی توجہ دی جائے۔