پاک ایران تعلقات کے نئے افق
خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن معاہدے کی پیش رفت کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورۂ پاکستان ایک غیر معمولی اور دور رس سفارتی پیش رفت کا مظہر ہے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد سب سے پہلے پاکستان کا انتخاب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تہران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں پاکستان سرفہرست ہے۔ یہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں اور انتھک سفارتی کردار کا اعتراف ہے جو پاکستان نے امریکہ ایران جنگ بندی اور قیام امن کیلئے ثالثی کے عمل میں ادا کیا۔ صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی سول و عسکری قیادت سے ملاقات اور بعدازاں وزیراعظم پاکستان کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں امن عمل میں پاکستان کے کردار کی تحسین کرتے ہوئے خوشحالی کیلئے ایک ساتھ آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فارسی کے ایک شعر کے ذریعے دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کا اظہار کیا۔ایرانی صدر کے اس اہم دورے نے نہ صرف دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو ایک نئی جہت دی بلکہ تزویراتی تعلقات کو بھی تاریخی بلندی پر پہنچا دیا ہے‘ جس سے مستقبل میں وسیع معاشی اور تجارتی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔

اس نئے سفارتی تناظر میں پاکستان کی اولین ترجیحات میں ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانا شامل ہے۔ پاکستان اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے اور اس بحران پر قابو پانے کیلئے وہ ایران سے سستے تیل‘ گیس اور ایل پی جی کے باضابطہ حصول کا خواہشمند ہے۔ تہران اور واشنگٹن میں طے پانیوالے معاہدے کے نتیجے میں اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ایران پر عالمی اور امریکی پابندیوں میں بتدریج نرمی آئے گی اور اس صورتحال میں پاکستان کو ایران سے سستی توانائی کے حصول میں پیش رفت کی قوی امید ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ‘ جو کئی برسوں سے امریکی پابندیوں کے دباؤ کے باعث التوا کا شکار ہے‘نئے عالمی منظرنامے میں ایک حقیقت بن کر ابھر سکتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے موجودہ تجارتی حجم کا جائزہ لیا جائے تو ثقافتی و جغرافیائی قربت اور حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں یہ مایوس کن ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے دونوں ملکوں کے مابین باضابطہ تجارت کا حجم دو سے تین ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ دونوں ملکوں نے باہمی تجارت کو 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کے مفاہمتی معاہدات پر دستخط کر رکھے ہیں جبکہ بارٹر ٹریڈ اور سرحدی منڈیوں سمیت کئی دیگر معاہدوں پر بھی اتفاق ہو چکا مگر اب تک اس ہدف کا نصف بھی حاصل نہیں ہو سکا۔ وقت آ گیا ہے کہ ان معاہدوں کو اب عملی جامہ پہنایا جائے۔
دوسری جانب دونوں ملکوں کی 900 کلومیٹر طویل سرحد پر پھیلی ہوئی غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کو بھی قانونی ضابطے میں لانے کی ضرورت ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پاک ایران سرحد سے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 50 سے 60 لاکھ لیٹر ایندھن (پٹرول اور ڈیزل) پاکستان میں سمگل ہوتا ہے جبکہ سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی غیر قانونی طریقے سے لائی جاتی ہیں‘ جس کے باعث قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ اس غیر تجارت کو مشترکہ میکانزم کے ساتھ قانونی دائرے میں لایا جائے۔ ایرانی صدر کے تاریخی دورے نے دونوں ملکوں کو سفارتی‘ تزویراتی اور اقتصادی حوالے سے نئی شروعات کا موقع فراہم کیا ہے۔ تبدیل شدہ علاقائی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ درپیش رکاوٹوں کو دور کر کے ایران سے توانائی کے حصول میں ممکنہ ریلیف کا فائدہ اٹھایا جائے۔ تیل اور گیس کی سمگلنگ کو قانونی دھارے میں لانا اور تجارتی حجم بڑھانا نہ صرف پاکستان کے معاشی مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے بلکہ یہ پاک ایران تعلقات کو ایک پائیدار اور ناقابل تسخیر تزویراتی و اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کا ذریعہ بھی بنے گا۔