اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پری مون سون انتظامات

ملک میں پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ پچھلے کئی سال سے مون سون کے دوران بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ سے شدید نقصان ہوا۔ مگر اس حوالے سے تیاریوں کی بات کی جائے تو انتظامات تسلی بخش نہیں۔بارشوں کی مؤثر نگرانی‘ بروقت پیش گوئی اور نکاسیِ آب کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے شروع کیا گیا ڈیجیٹل رین ڈیش بورڈ منصوبہ بھی مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہو سکا اور اس کا دائرہ کار بھی 41 سے کم کر کے 15اضلاع تک کر دیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل رین ڈیش بورڈ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ہے جس کے ذریعے بارشوں کے اعدادوشمار‘ موسمی صورتحال‘بارشی پانی کی سطح اور نکاسی کے نظام اور اربن فلڈنگ کے خطرات کی مسلسل نگرانی کی جانی تھی مگر اطلاعات کے مطابق فنڈز کے اجرا کے باوجود یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔

سیوریج کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ہر سال بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہو جاتے ہیں اور شہریوں کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گزشتہ برس لاہور‘ راولپنڈی‘ فیصل آباد‘ سیالکوٹ اور گجرات سمیت پنجاب کے متعدد بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تھی‘لہٰذا ڈیجیٹل نگرانی کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مون سون کے آغاز سے قبل بڑے شہری مراکز میں نالوں اور ڈرینج چینلز کی ہنگامی بنیادوں پر صفائی‘ آبی گزرگاہوں سے تجاوزات کا خاتمہ اور نکاسی آب کا بہتر نظام یقینی بنائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں