اسلام آباد میں آتشزدگی
منگل کی شب وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ نائن میں قائم اتوار بازار میں آتشزدگی سے 350سے زائد دکانیں جل گئیں۔ انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس بازار میں آتشزدگی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ بازار بار بار آگ کی لپیٹ میں آتا رہا ہے۔ اگست 2017 ء میں لگنے والی آگ سے تقریباً 550 دکانیں جل گئیں‘ جولائی 2018ء میں 110‘ اکتوبر 2019ء میں 300‘ دسمبر 2022ء میں 133 اور جولائی 2024ء میں تقریباً 700 دکانیں آگ کی نذر ہو گئیں۔ اب 2026ء میں ایک بار پھر سینکڑوں دکانوں کا جل جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بازار میں فائر سیفٹی سے بچاؤ کے قواعد پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

ضروری ہے کہ حالیہ واقعے کے بعد بازار کی تمام برقی تنصیبات کا جامع آڈٹ کرایا جائے اور غیر معیاری وائرنگ‘ جو شارٹ سرکٹ کا سبب بنتی ہے‘ فوری طور پر تبدیل کی جائے۔ ہر دکان پر آگ بجھانے کے آلات لازمی قرار دیے جائیں۔ انتظامیہ کو باقاعدہ فائر سیفٹی انسپکشن اور قواعد کی سختی سے پابندی یقینی بنانا ہوگی۔دکانداروں کو بھی چاہیے کہ احتیاطی تدابیر لازمی اپنائیں۔ بازار میں بار بار لگنے والی آگ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک انتظامی اور حفاظتی مسئلہ ہے۔ اگر اب بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تومستقبل میں پھر آتشزدگی ہو سکتی ہے۔