اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم

گزشتہ دو روز کے دوران سرگودھا‘ فیصل آباد‘ کراچی اور پشاور میں چار کم سن بچوں کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم انتہائی تشویشناک ہیں۔ بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق 2025ء میں ملک بھر سے بچوں کے خلاف جرائم کے 3630 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 2003 واقعات جنسی استحصال سے متعلق تھے جبکہ جنسی استحصال کے سب سے زیادہ‘ 77 فیصد واقعات پنجاب سے رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار حکام کیلئے چشم کشا ہونے چاہئیں‘ لیکن افسوس کہ صورتحال کی سنگینی کے باوجود بچوں کے تحفظ کیلئے وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی جس کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بعض واقعات میں فوری گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں لیکن محض گرفتاریوں سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو سخت سزائیں دینا بھی ناگزیر ہے تاکہ ان درندہ صفت عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر حکمت عملی اختیار کریں۔ چائلڈ پروٹیکشن نظام کو فعال بنایا جائے اور جنسی استحصال کے مقدمات کے فوری فیصلوں کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کو ذاتی تحفظ سے متعلق بنیادی آگاہی دیں اور اپنے بچوں کے معاملات میں کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں کیونکہ مذکورہ رپورٹ کے مطابق جنسی استحصال کے 1667‘ یعنی 80 فیصد سے زائد کیسوں میں ملزمان قریبی رشتہ دار تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں