انسانی ترقی کا بحران
کسی بھی ریاست کی ترقی‘ استحکام اور خوشحالی کا دارو مدار اس کے مادی وسائل سے زیادہ اس کے انسانی وسائل پر ہوتا ہے۔ وہ قومیں جو اپنی نسلِ نو کے مستقبل‘ ان کی صحت و تعلیم کو اولین ترجیحات میں شامل کرتی ہیں‘ وہی دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منواتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے ہمیشہ سے بجٹ ترجیحات میں نچلے درجے پر ہوتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں پاکستان کے بجٹ اور اخراجات کا موازنہ علاقائی ممالک سے کریں تو مایوس کن خاکہ ابھرتا ہے۔ عالمی بینک اور عالمی ادارۂ صحت کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان اپنے شہریوں کی صحت پر فی کس سالانہ صرف 31ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ یہ رقم نہ صرف ہمسایہ ملکوں ایران (450 ڈالر) اور بھارت (75 ڈالر) سے کہیں کم ہے بلکہ اس معاملے میں ہم شدید معاشی بحران کے شکار افغانستان سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں جو اپنے شہریوں کی صحت پر فی کس 59 سے 80 ڈالر تک خرچ کر رہا ہے۔ پاکستان کا صحت کا بجٹ جی ڈی پی کے محض ایک فیصد کے لگ بھگ ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ متوسط اور نچلے طبقے کو اپنے علاج معالجے کے بیشتر اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتے ہیں اور بسا اوقات ایک سنگین بیماری کسی بھی متوسط خاندان کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیتی ہے۔ اس محدود بجٹ کا بڑا اثر بچوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ آج پاکستان میں سٹنٹنگ‘ شدید غذائی قلت اور نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح خطے میں بلند ترین سطح پر ہے۔

اسی طرح 40فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کے باعث اپنی عمر کے لحاظ سے قد اور ذہنی صلاحیتوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر تعلیم کے شعبے کی بات کریں تو پاکستان تعلیمی بجٹ کے معاملے میں جنوبی ایشیا کے تمام ممالک سے پیچھے اور افغانستان کے قریب کھڑا ہے۔ پاکستان میں تعلیم پر فی کس سالانہ سرکاری خرچ محض 11ڈالر ہے‘ جبکہ اس کے مقابل ایران 160ڈالر‘ بھوٹان 115ڈالر‘ سری لنکا 65ڈالر اور بھارت 45 ڈالر فی کس سالانہ تعلیم پر خرچ کر رہا ہے۔ اس فہرست میں صرف افغانستان پاکستان سے پیچھے کھڑا نظر آتا ہے‘ جس کا فی کس خرچ پانچ سے سات ڈالر ہے‘ جبکہ اس کی تعلیمی استعداد اور قابلیت بھی ظاہر و باہر ہے۔ ایک بڑا مسئلہ مختص تعلیمی بجٹ میں سکولوں کی حالت سدھارنے‘ نئی لیبارٹریوں کے قیام اور اساتذہ کی جدید تربیت کے پروگراموں کیلئے فنڈز کا انتہائی قلیل ہونا ہے۔ بیشتر بجٹ جاری اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے اور ترقیاتی کاموں کیلئے کچھ باقی نہیں بچتا۔ اس ناقص پالیسی کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان سکول سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اربابِ اختیار کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سکول سے باہر بچے اور غذائی قلت کا شکار نسلِ نو‘ کل کو یہی اس ملک و قوم کا مستقبل بنے گی۔
انسانی ترقی کا اصول یہ کہتا ہے کہ اگر آپ نے بچوں پر ان کے بچپن میں سرمایہ کاری نہ کی‘ انہیں متوازن غذا‘ بہتر طبی سہولتیں اور معیاری تعلیم و ہنر سے آراستہ نہ کیا تو جیسے جیسے یہ بچے عمر کی سیڑھیاں طے کرتے جائیں گے‘ معاشرے کیلئے سنگین معاشی بوجھ بنتے چلے جائیں گے۔ ڈیڑھ‘ دو دہائیوں بعد جب یہ بچے عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو ان کے پاس نہ تو صحتمند جسم ہوگا اور نہ ہی کوئی تعلیم یا جدید ہنر‘ نتیجتاً یہ بیروزگاری‘ جرائم اور سماجی بے چینی کا سبب بنیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مستقبل کے منظرنامے کو سامنے رکھ کر انسانوں پر سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح بنایا جائے۔ جب تک تعلیم اور صحت کے بجٹ کو جی ڈی پی کے کم از کم چار سے پانچ فیصد تک نہیں لایا جاتا‘ تب تک ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ ہمیں یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا کہ ہم نے اپنے بچوں کو صحتمند‘ تعلیم یافتہ اور خودکفیل بنانا چاہتے ہیں یا پھر ایسا معاشی بوجھ جو آنے والے وقت میں ملک کی اساس کو ہلا کر رکھ دے۔