جھیلیں پھٹنے کا خطرہ
این ڈی ایم اے نے تین جولائی تک ملک میں وقفے وقفے سے پری مون سون بارشوں اور شمالی علاقوں میں گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے‘ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ہندوکش‘ قراقرم اور ہمالیہ کے گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں تین ہزار سے زائد گلیشیائی جھیلیں وجود میں آ چکی ہیں۔ حکومت نے گزشتہ برس سے ان میں سے 33 جھیلوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا تھا جوکسی بھی وقت پھٹ کر فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔

اس صورتحال میں وقتی اقدامات کے طور پر حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی‘ جدید ابتدائی وارننگ سسٹم‘ انخلا کے واضح منصوبے‘ ریسکیو اداروں کی مکمل تیاری‘ سڑکوں کی بروقت بحالی کیلئے مشینری کی پیشگی دستیابی اور سیاحوں کی آمدورفت پر مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔ طویل مدتی بنیادوں پر حکومت کو گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل مانیٹرنگ‘ مزید موسمیاتی نگرانی کے مراکز‘ حفاظتی انجینئرنگ ڈھانچوں‘ نکاسی آب کے نظام‘ شجرکاری اور مقامی آبادی کی استعداد کار بڑھانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے وقتی ردِعمل کے بجائے مستقل‘ سائنسی اور دور رس حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔