پی آئی اے کی بحالی؟
گزشتہ روز حکومت نے پی آئی اے کا انتظامی اختیار باضابطہ طور پر چھ کمپنیوں پر مشتمل کنسورشیم کے حوالے کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا کہ پی آئی اے مسلسل خسارے کا شکار ہے‘ قومی خزانے پر بوجھ بن چکی ہے اور اس کا واحد قابلِ عمل حل نجکاری ہے۔ اب جبکہ یہ مرحلہ طے پا چکا تو دیکھنا یہ ہے کہ نئی انتظامیہ اس ادارے کوکس حد تک دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر پاتی ہے۔ پی آئی اے ماضی میں دنیا کی نمبر وَن ایئر لائن رہنے کا اعزاز حاصل کر چکی ہے اور پھر سے دنیا کی بہترین فضائی کمپنی بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

نئی انتظامیہ نے سرمایہ کاری‘ بیڑے کی توسیع‘ کمپنی کو جدید خطوط پر استوار کرنے‘ ڈیجیٹائزیشن اور خدمات کے معیار میں بہتری کا عزم کیا ہے‘ لیکن اعلانات ہی کافی نہیں ان وعدوں کو عملی اقدامات میں ڈھالنا بھی ہو گا۔ اگر اعلان کردہ سرمایہ کاری جہازوں کی جدت‘ نئے منافع بخش روٹس‘ ڈیجیٹل نظام‘ پابندیٔ وقت ‘ اعلیٰ معیار کی کسٹمر سروس اور میرٹ پر مبنی انتظامی اصلاحات پر صرف کی جاتی ہے تو پی آئی اے کو دوبارہ خطے کی ممتاز فضائی کمپنی بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ عالمی فضائی صنعت میں مقابلہ یقینا سخت ہے لیکن درست حکمتِ عملی‘ پیشہ ورانہ قیادت اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے پی آئی اے ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن سکتی ہے۔