اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

امن اور مذاکرات ناگزیر

گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے بعد فریقین میں مفاہمتی یادداشت کے نکات کے مطابق تکنیکی مذاکرات جاری رہنے کی امید کی جا رہی تھی۔ اس پیش رفت کو عالمی پذیرائی حاصل ہوئی اور معاشی اشاریوں پر اس کے مثبت اثرات سامنے آئے۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور یہ جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ گئیں‘ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سفارتی رابطوں کی بحالی کے سلسلے میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی اور تہران‘ یو اے ای میں یکم جولائی سے پروازوں کی بحالی کی خوشخبری بھی اس میں شامل تھی۔ مشرق وسطیٰ کیلئے یہ غیر معمولی اور نہایت خوشگوار تبدیلیاں امریکہ ایران جنگ بندی اور امن کی بحالی کا پہلا براہِ راست نتیجہ تھا جس پر دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔ مگر پچھلے دو روز میں امریکہ اور ایران میں ایک بار پھر مسلح حملے اور جوابی حملے اس پُرامید صورتحال میں مایوسی کا سبب بنے اور امن کاوشوں کا مستقبل خطرے میں محسوس ہونے لگا۔ مگر خیریت گزری کہ اس پنجہ آزمائی نے زیادہ طول نہیں پکڑا اور گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ فریقین آج (منگل کے روز) دوحہ میں ملاقات کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اسکی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کیلئے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ جا رہے ہیں۔ یہ خوش آئند پیش رفت ہے اور امن عمل کو آگے بڑھانے کا یقینی راستہ یہی ہے کہ فریقین مذاکراتی سلسلے کو معطل نہ ہونے دیں۔ فریقین میں تین ماہ سے جاری سفارتی عمل کے باوجود بے یقینی اور بداعتمادی کا ایک کوہِ گراں ہے جسے سر کرنا ہے‘ اس صورتحال میں ملاقاتوں کا سلسلہ طرفین کو اپنے تحفظات کو پیش کرنے اور ان کا ازالہ کرنے کا بہتر موقع فراہم کر سکتا ہے؛ چنانچہ امریکہ اور ایران کو مفاہمتی یادداشت کے مطابق طے شدہ نکات پر گفت وشنید کیلئے ملاقاتوں کا سلسلہ کسی صورت معطل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اگرچہ فریقین کو ایک دوسرے سے کئی شکایات ہیں‘ یہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ہیں اور لبنان میں جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے حوالے سے بھی‘ تاہم فریقین کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ مسائل قیام امن کیلئے مہینوں کی محنت کو سبوتاژ نہ ہونے دیں۔ اس میں شک نہیں کہ اسرائیل کو یہ پیش رفت گوارا نہیں اور اس کی جانب سے بار بار ایسی حرکتیں نوٹ کی جا رہی ہیں کہ یہ امن عمل پٹری سے اتر جائے‘ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور عرب ممالک‘ ایران اور امریکہ میں اعتماد کی صورتحال صہیونی ریاست کے گھناؤنے عزائم کیلئے رکاوٹ بن سکتی ہے ؛ چنانچہ اسرائیل ہر صورت میں چاہے گا کہ کسی نہ کسی طرح ایسے حالات پیدا ہوتے رہیں کہ ایران ‘ امریکہ اور عرب ممالک اس کشیدگی میں پھنسے رہیں۔

مگر دانشمندی اسی میں ہے کہ ان حالات میں ہر اس اقدام سے اجتناب برتا جائے جوا سرائیل کے فاسد عزائم کو پروان چڑھانے میں مدد کرے۔ امریکہ اور ایران میں کشیدگی کا پھیلاؤ بھی ان میں سے ایک ہے۔ یہ تو اس صورتحال کا علاقائی تناظر ہے‘ عالمی تناظر یہ ہے کہ دنیا کی معیشت کو مشرقِ وسطیٰ سے گہرا تعلق ہے۔ یہ خطہ توانائی کے وسائل ہی کا حامل نہیں‘ دنیا میں دولت کا بہت بڑا مرکز اور معدنی وسائل کی پیداوار کے حوالے سے بھی دنیا کا خاصا انحصار اسی خطے پر ہے۔ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں سکیورٹی کے عمومی خدشات کی وجہ سے تیل اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا اس نے دنیا کو اونچے درجے کی مہنگائی اور کئی طرح کی الجھنوں سے دوچار کیا۔ یہ مسائل خود امریکہ کے لیے بھی شدید تر تھے حالانکہ بقول صدر ٹرمپ اب امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں۔ اس صورتحال میں خلیج فارس میں پائیدار امن کا قیام مزید اہم ہو جاتا ہے اور اس معاملے کو منطقی انجام کی طرف لے جانے کے لیے امریکہ اور ایران کلیدی ذمہ دار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون کتنے خلوص‘ تحمل اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں