اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پاور سیکٹر کا گردشی قرض

مالی سال 2025-26ء کے ابتدائی دس ماہ کے دوران پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 240 ارب روپے کا اضافہ ہوا‘ جس کے بعد بجلی شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 1854 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں بینکوں سے قرض لے کر پاور سیکٹر کا تقریباً 780ارب گردشی قرضہ ادا کیا تھا‘ جس سے اس شعبے کا مجموعی گردشی قرض کم ہو کر 1614ارب روپے پر آ گیا مگر اب پھر اس میں اضافہ جاری ہے۔گردشی قرض دراصل اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بجلی پیدا کرنے‘ ترسیل اور تقسیم کے پورے نظام میں مالی ادائیگیوں کا سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے مکمل رقوم وصول نہیں کر پاتیں‘ بجلی چوری‘ لائن لاسز اور ناقص ریکوری کے باعث ان کے مالی خسارے بڑھتے ہیں‘جس کے نتیجے میں وہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بروقت ادائیگی نہیں کرتیں۔

یہ کمپنیاں آگے ایندھن فراہم کرنے والے اداروں کی واجبات ادا نہیں کر پاتیں اور یوں ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک ادائیگیوں کا یہ تعطل گردشی قرض کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ حکومت کو توانائی کے شعبے میں حقیقی اور دیرپا اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔ بجلی چوری کے خاتمے‘ ترسیلی نظام کی بہتری‘ بلوں کی مؤثر وصولی اور شفاف گورننس کے بغیر گردشی قرضے کے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ اگر بروقت اور مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو گردشی قرضہ مزید بڑھتا رہے گا‘ قومی خزانے پر بوجھ میں اضافہ ہوگا اور عوام کو سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا ہدف محض ایک دعویٰ بن کر رہ جائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں