موسمیاتی تغیرات اور ہماری ذمہ داری
ملک میں مون سون کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے کہ بارشوں سے جانی و مالی نقصانات کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے وفاقی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران بارشوں اور متعلقہ حادثات میں 16افراد جاں بحق جبکہ 38 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ المیہ کوئی پہلی بار رونما نہیں ہوا بلکہ گزشتہ سال بھی مون سون کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ نقصان کی یہ داستان طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے لیکن پیشگی انتظامی تیاریوں میں وہ سدھار نظر نہیں آ رہا جو آنا چاہیے تھا۔ این ڈی ایم اے مسلسل کئی ہفتوں سے خبردار کر رہا ہے کہ اس سیزن میں معمول سے کہیں زیادہ شدید اور غیر متوقع بارشوں کا امکان ہے مگر ان پیش گوئیوں کے باوجود ہمارے شہروں اور دیہات میں حفاظتی انتظامات ناقص اور ادھورے ہیں۔ ندی نالوں کی صفائی‘ نکاسیِ آب کے نظام کی بحالی اور خطرناک عمارتوں کی نشاندہی جیسے بنیادی کام ہمیشہ کی طرح اس بار بھی نامکمل ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ کئی شہروں میں پہلی بارش کے ساتھ ہی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ اب تک زیادہ اموات چھتیں گرنے سے ہوئی ہیں۔ دنیا بھر میں حالیہ عرصے کے دوران شدید گرمی کی لہر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے واضح مظاہر ہمیں بہت کچھ سوچنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ یہ بات اب وضاحت طلب نہیں رہی کہ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے‘ گلیشیرز پگھل رہے ہیں اور موسموں کا پیٹرن تبدیل اور غیر متوقع ہو چکا ہے۔

شدید گرمی اور اسکے بعد طوفانی بارشیں دراصل قدرت کا ایک واضح پیغام ہیں کہ صدیوں سے انسان نے ماحول کیساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اب اس کا خمیازہ بھگتنے کا وقت آ گیا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کا سامنا کرنیوالے ممالک کی فہرست میں اولین نمبروں پر ہے۔ یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے اب نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی سطح پر رونما ہونیوالی موسمیاتی تبدیلیاں براہِ راست ہم پر‘ ہماری معاشرت اور معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ردعمل کی روایتی نفسیات سے باہر نکلیں اور پیشگی انتظامات اور انسدادی حکمتِ عملی کو یقینی بنائیں۔ قدرتی آفات کا ترقی یافتہ ممالک کو بھی سامنا رہتا ہے مگر وہ اپنے پیشگی اقدامات کے ذریعے جانی و مالی نقصان کو صفر کے قریب لے آتے ہیں۔ جب تک ہم مون سون کے آغاز سے مہینوں قبل ہی ہنگامی منصوبے تیار نہیں کریں گے تب تک بارش سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات ہمارا مقدر بنے رہیں گے۔ یہ بات اب پتھر پر لکیر کی طرح واضح ہو چکی کہ موسم کا اب یہی پیٹرن رہے گا اور بارشوں میں اسی طرح کی شدت رہے گی بلکہ وقت کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ موسمیاتی تبدیلیاں عارضی مرحلہ نہیں بلکہ یہ ایک نیا معمول ہیں۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ انفرادی طور پر بھی اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا۔ تعمیراتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہوگا تاکہ ندی نالوں پر تجاوزات کا خاتمہ ہو سکے اور پانی کے قدرتی بہاؤ میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ شہریوں کو شجرکاری مہم کا حصہ بننا ہوگا‘ تاکہ درخت آبی ریلوں کیخلاف ایک قدرتی ڈھال کا کام کریں۔ ہمارے شہروں کا بنیادی ڈھانچہ شدید موسم کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے‘ اس میں فوری اور انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حکومت‘ سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر ایک جامع اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے طرزِ عمل‘ ترجیحات اور طرزِ زندگی کو تبدیل نہ کیا، تو آنے والے سالوں میں مون سون ہمارے لیے مزید ہولناک تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔