محفوظ تعلیمی ادارے ضرور مگر…
کاہنہ ٹیوشن سنٹر حادثے کے بعد پنجاب میں تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور نوٹسز کے اجرا کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز نے سات سو سے زائد تعلیمی اداروں کو حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے تین دن میں رجسٹریشن کرانے کی مہلت دی ہے۔ طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے انتظامی اقدامات بلاشبہ ناگزیر ہیں لیکن کسی ایک واقعے کی بنیاد پر سینکڑوں تعلیمی اداروں پر بندش کی تلوار لٹکا دینا بھی درست نہیں۔ یہ امر فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ ان اکیڈمیوں میں لاکھوں بچے زیر تعلیم ہیں‘ جو فرسودہ سکولنگ سسٹم کی کمیوں کو پورا کرنے کیلئے ان کا رخ کرتے ہیں۔ پنجاب میں پہلے ہی ایک کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر اور تعلیم سے محروم ہیں۔

ایسے میں تعلیمی اداروں کو یکسر بند کرنے کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ رجسٹریشن کیلئے معقول ٹائم فریم دے‘ نیز رجسٹریشن کے طریقہ کار کو بھی غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنانے کے بجائے آسان‘ سہل اور آن لائن بنایا جائے تاکہ بچوں کے تعلیمی عمل میں تعطل نہ آئے۔ مزید برآں گلی محلوں میں چلنے والے چھوٹے ٹیوشن سنٹرز اور بڑے اکیڈمی نیٹ ورکس میں فرق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنے سے نقصان محض غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کا ہوگا۔ حکومت کے کسی بھی انتظامی اقدام سے تعلیمی بندش کا تاثر نہیں ابھرنا چاہیے۔