اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تجارتی خسارہ، خطرے کی گھنٹی

مالی سال 2025-26ء ایسے حالات میں اختتام پذیر ہوا جب ایک طرف معاشی استحکام کے دعوے کیے جا رہے تھے جبکہ دوسری جانب بیرونی تجارت کے اعداد وشمار تشویش میں اضافہ کر رہے تھے۔ ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 21.57 فیصد زیادہ تھا۔ اس عرصے میں برآمدات تقریباً 30.13 ارب ڈالر رہیں‘ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد کم تھیں جبکہ درآمدات 69.6 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔ جون کے مہینے میں ماہانہ تجارتی خسارہ تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو جون 2025ء کے مقابلے میں 57 فیصد زیادہ تھا۔ ہر حکومت برآمدات بڑھانے اور معیشت کو صارف اور درآمدی کے بجائے پیداواری اور برآمدی معیشت بنانے کے دعوے کرتی ہے مگر یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ ملکی معیشت بدستور درآمدات پر حد سے زیادہ انحصار کر رہی ہے اور برآمدی شعبہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اگرچہ خام تیل‘ صنعتی خام مال‘ مشینری اور دیگر ضروری اشیا کی درآمدات میں اضافہ کسی حد تک معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی علامت سمجھا جا سکتا ہے لیکن جب اس کے مقابلے میں برآمدات سکڑنے لگیں اور غیر پیداواری مقاصد کی درآمدات کا حصہ بڑھنے لگے تو تجارتی عدم توازن معیشت کیلئے بگاڑ کر سبب بنتا ہے۔

جہاں تک برآمدات میں کمی کے اسباب کی بات ہے تو اس کی کئی وجوہ ہیں‘ مثال کے طور پر صنعتی شعبہ مہنگی توانائی‘ بلند شرح سود اور ٹیکسوں کا غیر معمولی بوجھ پیداواری لاگت میں اضافہ کرتا ہے‘ اس طرح عالمی منڈی میں سخت مسابقت جیسے مسائل کا سامنا کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ اسباب ٹیکسٹائل‘ چاول اور دیگر روایتی برآمدی شعبوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ ملکِ عزیز کی معیشت مسلسل ایک ہی چکر میں گھوم رہی ہے‘ جب معاشی سرگرمیاں بڑھتی ہیں تو درآمدات تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں‘ نتیجتاً زرمبادلہ پر دباؤ بڑھتا ہے‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہوتا ہے اور پھر سخت معاشی اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کا حل یہ ہے کہ برآمدات میں مسلسل اور پائیدار اضافہ کیا جائے اور درآمدات پر پابندیاں لگا کر نہیں بلکہ برآمدی صلاحیت کو بڑھا کر معاشی استحکام حاصل کیا جائے۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہماری برآمدات اب بھی چند روایتی مصنوعات اور محدود منڈیوں تک مرکوز ہیں۔ ویلیو ایڈڈ مصنوعات‘ آئی ٹی کی خدمات‘ فارماسیوٹیکل‘ زرعی پراسیسنگ اور معدنی وسائل کی برآمدات میں بے پناہ امکانات ہیں مگر ان شعبوں کو وہ توجہ نہیں مل سکی جس کے یہ مستحق ہیں‘ اور برآمدی تنوع کے بغیر پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مسابقت بہتر نہیں بنا سکتا۔

ضروری ہے کہ برآمد ی شعبے کو سستی اور بلاتعطل توانائی فراہم کی جائے‘ ٹیکس ریفنڈز بروقت ادا کیے جائیں‘ صنعتی شعبے کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں سہولت اور مدد دی جائے اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کیلئے تجارتی سفارتکاری کو فعال بنایا جائے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کو آسان قرضے اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ نئے مالی سال میں معاشی منصوبہ سازوں کیلئے سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ وہ برآمدات کو کس حد تک بڑھا سکتے ہیں۔ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ روپے پر دباؤ‘ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی قرضوں پر انحصار کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ برآمدی شعبے کو ترجیح بنایا جائے‘ صنعتی اصلاحات پر عمل کیا جائے اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ درآمدی معیشت سے برآمدی معیشت کی طرف منتقلی کو ملکی معیشت کے استحکام کی بنیاد سمجھنا چاہیے کیونکہ اسی طرح معاشی خودمختاری‘ روزگار کے نئے مواقع‘ زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر اور پائیدار اقتصادی استحکام ممکن ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں