جعلی ادویہ کی روک تھام
ملک میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے پھیلائو اور جعلی اور زائد المیعاد ادویہ کی روک تھام کیلئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کی جانب سے ادویات پر بار کوڈ لگانے اوردوبارہ قابلِ استعمال سرنجوں کی تیاری‘ فروخت اور درآمد پر یکم جنوری سے مکمل پابندی کا اعلان وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ اقدام طبی شعبے میں شفافیت لانے اور غیر معیاری مصنوعات کے سدباب میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ادویات کے پیکٹوں پر میعاد کے حوالے سے بار کوڈ پرنٹ کرنے کی تجویز 2015ء میں سامنے آئی تھی اور 2017ء میں کابینہ نے اس کی منظوری دی تھی مگر گزشتہ آٹھ سال میں اس جانب کوئی خاص پیشرفت نہ ہو سکی حالانکہ اس دوران زائد المیعاد ادویات کو نئی تاریخ کے ساتھ مارکیٹ میں بیچنے کے کئی بڑے سیکنڈلز سامنے آئے۔

اسی طرح ایڈز اور دیگر متعدی امراض کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ سرنجوں کا غیر محفوظ اور دوبارہ استعمال دیکھا گیا ہے‘ لہٰذا اس تناظر میں یہ فیصلے اہم ہیں‘ تاہم محض قوانین بنا دینا کافی نہیں‘ اصل چیلنج ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہے۔ متعلقہ انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مقررہ مدت کے بعد مارکیٹ میں موجود تمام ادویات پر بار کوڈ موجود ہو جبکہ قابلِ تجدید سرنجوں کی فروخت پر بھی سختی سے قدغن لگانا ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں اور کلینکس میں طبی آلات کو جراثیم کش بنانے کے عمل اور دیگر طبی پروٹوکولز پر بھی سو فیصد عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ خود بھی اس حوالے سے محتاط رہیں۔