گیس مہنگی رہے گی؟
اوگرا کی جانب سے سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کے اوسط ٹیرف کو 1793سے کم کرکے 1705 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے جانے کے باوجود وفاقی حکومت نے صارفین کے لیے موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایک خبر کے مطابق حکومت گیس اسلئے سستی نہیں کرنا چاہتی تا کہ گیس کمپنیوں کو مالی خسارے سے بچایا جاسکے۔ تاہم ریگولیٹری ادارے کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل نہ ہونا مایوس کن ہے۔ گھریلو صارفین پہلے ہی مہنگائی‘ بڑھتے ہوئے یوٹیلٹی بلوں اور کم ہوتی قوتِ خرید کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ گیس کی قیمتوں میں کمی کا براہِ راست فائدہ عام صارفین کو ملنا چاہیے تھا تاکہ ان کے ماہانہ اخراجات میں کچھ کمی آتی۔

صنعتی شعبے پر بھی اس فیصلے کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے‘ جو بجلی اور گیس کے بلند نرخوں کے باعث پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔مہنگی توانائی کے باعث پیداواری لاگت بڑھے گی‘ نتیجتاً عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات مسابقت پیدا نہیں کر سکیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ اس فیصلے پر ازسرِنو غور کرے اور کم از کم صنعتی شعبے کے لیے ایسا ٹیرف متعارف کرائے جو پیداواری لاگت میں کمی‘ برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کا ذریعہ بن سکے۔