چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی اہمیت
وزیراعظم شہباز شریف نے سمیڈا کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروبار کو قرضوں کی فراہمی کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور کمرشل بینکوں کے اشتراک سے ایک جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیاد بنتی ہیں۔ وطنِ عزیز میں بھی ایس ایم ایز معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مختلف معاشی رپورٹس کے مطابق یہ شعبہ جی ڈی پی میں تقریباً 40 فیصد حصہ ڈالتا ہے‘ برآمدات میں اس کا حصہ 25 فیصد سے زائد ہے جبکہ نان ایگریکلچر ورک فورس کا تقریباً 80فیصد اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ لیکن اتنی اہمیت کے باوجود یہ شعبہ گوناں گوں مسائل کا شکار ہے ‘ سرمایہ تک محدود رسائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

بیشتر چھوٹے کاروباری افراد بینکوں کی سخت شرائط‘ بھاری ضمانتوں‘ قرضوں کی منظوری میں غیر ضروری تاخیر اور بلند شرح سود کے باعث مالیاتی نظام سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اگر کمرشل بینک ایس ایم ایز کیلئے آسان شرائط پر قرضے‘ کم شرح سود‘ تیز رفتار منظوری اور جدید ڈیجیٹل فنانسنگ کے نظام متعارف کراتے ہیں تو نہ صرف اس شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا بلکہ روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ آسان قرضوں کی فراہمی کیساتھ ساتھ حکومت کو پیچیدہ رجسٹریشن اور ٹیکس نظام‘ سرکاری اداروں کی سست روی اور توانائی کی بلند قیمتوں جیسے مسائل پر بھی توجہ دینا ہو گی۔